کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 139
پہلا خطبہ حرص اور ہوس امام و خطيب فضيلة الشيخ صلاح البدير حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: جس نے تقویٰ اختیار کر لیا وہ خوش نصیب ہوگیا اور جس نے اپنے نفس اور اس کی خواہشات پر حقوق اللہ کو ترجیح دی وہ کامیاب ہو گیا، اور جس نے اپنی من مانیوں پر اللہ کی رضا کو ترجیح دی وہ نجات پا گیا۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴾[آل عمران: ۱۰۲] ’’اے ایمان والو! صحیح معنوں میں اللہ کا تقوی اختیار کرو اور تمھیں موت نہ آئے سوائے اس کے کہ تم مسلمان ومطیع فرمان ہو۔‘‘ مومن صادق اپنے نفس کی حدود وقیود کو پھلانگ کر ان سے آزاد ہونے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ وہ نجات کی امید اور خلاصی کی طلب میں رہتا ہے۔ اس کی تمام تر کوششیں آخرت کی سرخروئی کے لیے ہوتی ہیں اور آخرت میں اچھے مقام و مرتبے کے حصول کے لیے وہ اعمالِ صالحہ میں مشغول رہتا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ رَئُ وْفٌم بِالْعِبَادِ﴾[البقرۃ: ۲۰۷] ’’اور لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو اللہ کی رضا وخوشنودی کے لیے اپنی جانیں تک داؤ پر لگا دیتے ہیں، اور اللہ اپنے بندوں کے ساتھ بڑا رحم والا ہے۔‘‘ مومن کے بارے میں اس دارِ امتحان میں جس چیز کا ڈر ہے وہ اس کا حرص و ہوا اور نفسانی خواہشات میں مبتلا ہو جانا ہے جو تمام آفتوں سے بڑی آفت ہے۔ جس دل میں یہ چیز