کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 129
’’دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے کافی ہو جاتا ہے اور تین آدمیوں کا کھانا چار کو کفایت کر جاتا ہے۔‘‘ کفار نورِ ہدایت سے دور ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ان کی آرا میں اختلاف اور ان کے افکار میں تفرقہ پایا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ھُمْ فِیْ شِقَاقٍ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴾ [البقرۃ: ۱۳۷] ’’وہ شدید اختلاف میں مبتلا ہیں، تمھیں ان سب کے مقابلے میں اﷲ ہی کافی ہے، اور وہ بہت زیادہ سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘ قیامت تک ان کے ما بین نزاع و اختلاف موجود رہے گا، اس بات کا پتا خود کتابِ الٰہی نے دیا ہے، چنانچہ ارشادِ ربانی ہے: ﴿ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَھُمُ الْعَدَاوَۃَ وَ الْبَغْضَآئَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ﴾ [المائدۃ: ۶۴] ’’ہم نے قیامت تک کے لیے ان کے درمیان بغض و عداوت ڈال دی ہے۔‘‘ مسلمان کے مقابلے میں وہ انتہائی بزدل ثابت ہوتے ہیں۔ ایک مسلمان دو کافروں پر بھاری ہوتا ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ وَ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ﴾ [الأنفال: ۶۶] ’’اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں تو ان کے دو سو پر غالب آ جائیں گے اور اگر ایک ہزار ہوں تو اﷲ کے حکم سے وہ دو ہزار پر غالب آجائیں گے۔‘‘ وہ ایک دوسرے کو بخل کی تاکید کرنے والے، خرچ کے معاملے میں انتہائی بخیل اور مہمان نوازی کے معاملے میں انتہائی برے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے بتایا ہے: ﴿ اَلَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اٰتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ وَ اَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّھِیْنًا﴾ [النساء: ۳۷] ’’وہ لوگ خود بخل سے کام لیتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کی تاکید کرتے ہیں، اور اﷲ