کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 127
ان کے چہروں اور زبانوں سے دشمنی جھلکتی ہے۔ وہ مسلمانوں کے خلاف غصے میں اپنی انگلیاں چباتے رہتے ہیں اور دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بدترین خیالات، نیتوں میں کھوٹ اور مکرو فریب چھپائے رکھتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ اِنَّھُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْدًا . وَّاَکِیْدُ کَیْدًا﴾ [الطارق: ۱۵، ۱۶] ’’وہ چال چلتے ہیں اور میں بھی چال چلتا ہوں۔‘‘ وہ اپنے آپ کو بڑے امانت دار، با اخلاق اور خوش طبع ظاہر کرتے ہیں، لیکن یہ سب کچھ محض اپنے دنیوی مقاصد کے لیے ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ان کی اسی بد نیتی کو اپنے اس ارشاد میں بیان کر کے ان کا پردہ چاک کیا ہے: ﴿ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآئُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُھُمْ اَکْبَرُ﴾ [آل عمران: ۱۱۸] ’’ان کے منہ سے ان کا بغض و کینہ ظاہر ہو چکا ہے اور ان کے دلوں میں جو پوشیدہ (زہر بھرا ہوا) ہے وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔‘‘ وہ سچ میں جھوٹ اور امانت میں خیانت چھپائے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ زبان سے تمھیں راضی کرنے میں کوشاں رہیں گے، لیکن ان کے دل تمھارے خلاف جلتے کٹتے رہتے ہیں۔ وہ باطل جدال و مناظرہ میں بڑے تیز اور حقائق کو مسخ کرنے میں ماہر ہوتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف ان کا مکر و فریب بڑا ہی سخت ہوتا ہے، لیکن ان کے مکر و فریب سے مسلمانوں کا تحفظ کرنے والا خود اﷲ تعالیٰ ہے۔ کافروں کا مکر و فریب خود انھی کی گمراہی کا باعث ہے، اور ذلت و رسوائی انھیں گھیرے رہتی ہے۔ کفار کی اطاعت اور پیروی باعثِ ذلت و رسوائی اور ان کی نافرمانی باعثِ عزت ہے، چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب ہو کر فرمایا ہے: ﴿ یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰہَ وَ لَا تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا﴾ [الأحزاب: ۱] ’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اﷲ سے ڈرو اور کفار و منافقین کی پیروی نہ کرو۔‘‘ ان کا علم صرف دنیا تک محدود ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: