کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 125
چوتھاخطبہ کفار کی صفات اور ان کا انجام امام و خطيب فضيلة الشيخ عبد المحسن القاسم حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: اﷲ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ کے ساتھ مخلوقات کو پیدا فرمایا، پھر جسے چاہا اپنے فضل و کرم سے ہدایت عطا فرمائی اور جسے چاہا اپنے عدل کے تقاضے سے گمراہ کیا، اور یہ سب کچھ لوحِ محفوظ میں لکھ دیا، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ فَمِنْکُمْ کَافِرٌ وَّمِنْکُمْ مُؤْمِنٌ﴾ [التغابن: ۲] ’’اﷲ ہی وہ ذات ہے جس نے تمھیں پیدا کیا، تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن ہے۔‘‘ اس نے خوش نصیب بننے کا راستہ بھی واضح کر دیا اور بد بختوں کے راستے بھی بیان کر دیے۔ اہلِ تقویٰ کی تعریف فرمائی اور کافروں کی مذمت کی اور ان کی عادات و اطوار سے بچنے کی تلقین فرمائی ۔ کفار کی عادات و اطوار: اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتابِ مقدس میں کافروں کے افعال و کردار، ان کے عقیدے کا فساد و بگاڑ اور اخلاق و عمل کی برائی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتے ہیں، قیامت کو بعید از عقل سمجھتے ہیں، قضا و قدر پر ایمان نہیں رکھتے، مصائب و مشکلات میں جزع و فزع کرنے لگتے ہیں اور اﷲ سے مایوسی و نا امیدی ان کی نشانیوں میں سے ہے، اسی لیے اﷲ نے فرمایا ہے: ﴿ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ﴾ [یوسف: ۸۷] ’’اﷲ کی رحمت سے کافر قوم کے سوا کوئی نا امید نہیں ہوتا۔‘‘