کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 124
ہمارے گلے کا ہار رہے گا۔ وہ ہمارے دل و دماغ اور احساسات میں سمایا ہوا ہے، بلکہ وہ ہماری تمام دنیوی مصلحتوں سے بالا ہے۔ ہم اس کی مٹی کے ایک ذرے سے بھی دست بردار نہیں ہوں گے اور اس کے حصول کے بغیر کوئی امن و سلامتی اور چین و استقرار پائیدار نہیں ہے۔ یہودی دشمن فلسطین میں اپنی یہودی بستیوں کی آبادی اور ان میں یہودیوں کی آبادکاری اور لاچار لوگوں خصوصاً یتیم و کم سن بچوں کو یہودی بنانے کی جتنی بھی کاروائیاں کر رہا ہے، وہ ساری کی ساری غیر قانونی ہیں اور پوری امتِ اسلامیہ ان کا بھی اسی طرح انکار و مذمت کرتی ہے جس طرح فلسطین کی زمین پر ان کے غاصبانہ قبضے کی مذمت کرتی ہے۔ ارضِ فلسطین ایک اسلامی قطعۂ ارض ہے اور حالات چاہے کوئی بھی رخ اختیار کریں، وہ اسلامی ہی رہے گی۔ ﴿ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ﴾ [یوسف: ۸۷] ’’اور اﷲ کی رحمت سے ناامید تو صرف کافر ہی ہوتے ہیں۔‘‘ یہ جدوجہدِ آزادی بھی جاری رہے گی، جانثاری اور قربانیوں کا یہ سلسلہ بھی اس وقت تک نہیں رکنے پائے گا جب تک یہ سر زمین اس کے مالکوں اور حقیقی وارثوں کے پاس نہ لوٹ آئے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری: ارضِ فلسطین اور بیت المقدس کے سلسلے میں مسلمانوں کا فرض کیا ہے؟ اسراء و معراج کے سفر نے مسلمانوں کے دلوں کو اس مقدس سر زمین کے ساتھ جوڑ رکھا ہے، مسئلۂ فلسطین صرف زمین و ملک کی آزادی کا مسئلہ نہیں، بلکہ وہ ایک اسلامی مسئلہ ہے، جس کا تعلق صرف فلسطینی مسلمانوں ہی سے نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ سے ہے، اور اس وقت تک مسلمان بریٔ الذمہ نہیں ہو سکتے جب تک اس شہر کو یہودیوں کی نجاست سے پاک نہ کر لیں گے۔ وہ شہر جو اسراء و معراج کے معجزۂ خالدہ سے شرف یاب ہوا تھا، جب تک اسے آزاد نہ کرالیں تب تک وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوسکتے۔ ﴿ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ﴾ [الصف: ۸] ’’اﷲ اپنے نور کو مکمل کرنے والا ہے اگرچہ یہ کافروں کو ناگوار ہی گزرے۔‘‘ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین والحمد للّٰه رب العالمین۔