کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 118
(( مَا تُقُوْلُوْنَ فِيْ ھٰذَا؟ )) ’’اس کے بارے میں تمھاری کیا رائے ہے‘‘؟ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ایسا شخص اگر پیغام نکاح دے تو اسے رشتہ نہ ملے، اور اگر وہ کسی کی سفارش کرے تو کوئی نہیں مانے گا، اور اگر بات کرے تو سنی نہیں جائے گی۔ یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( ھٰذَا خَیْرٌ مِنْ مِلْئِ الْأَرْضِ مِنْ مِثْلِ ھٰذَا )) [1] ’’یہ آدمی پہلے جیسے آدمی کی صفات کے حامل روئے زمین کے تمام آدمیوں سے اکیلا ہی بھاری و بہتر ہے۔‘‘ مردوں کو جسموں کی ضخامت سے نہیں ماپا جاتا اور نہ صورتوں ہی کے حسن و جمال کو پیمانہ بنایا جاسکتا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو ایک درخت پر چڑھ کر کوئی چیز اتارنے کا حکم فرمایا، لوگوں نے جب ان کی پتلی پتلی ٹانگیں دیکھیں تو اس پر ہنس پڑے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَا تَضْحَکُوْنَ؟ لَرِجْلُ عَبْدِاللّٰہِ أَثْقَلُ فِيْ الْمِیْزَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ أُحُدٍ )) [2] ’’تم عبد اﷲ کی جن پنڈلیوں (یا ٹانگوں) پر ہنس رہے ہو، یہ قیامت کے دن جبلِ اُحد سے بھی زیادہ وزنی ہوں گی۔‘‘ حقیقی مردانگی نام ہے: صحیح رائے، پاکیزہ کلام، مروت، وقار، تعاون اور باہمی ہمدردی و غم خواری کی صفات کے مجموعے کا۔ مردانگی توحید کے دفاع اور اﷲ کے لیے نصیحت و خیر خواہی کی ذمہ داری اٹھانے پر آمادہ کرتی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے: ﴿ وَ جَآئَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰی قَالَ یٰمُوْسٰٓی اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَکَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ﴾ [القصص: ۲۰] ’’اور شہر کے دور کنارے سے ایک آدمی بھاگا ہوا آیا اور اس نے کہا: اے موسیٰ! تمھاری قوم کے لوگ تمھیں قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں، تم یہاں سے نکل جاؤ، میں تمھیں [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۸۰۳) [2] مسند أحمد (۱/ ۱۱۴)