کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 117
پوری قوم کے سامنے بر سرِ عام اپنی ہجرت کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ’’جو کوئی چاہتا ہے کہ اس کی ماں اسے گم پائے، جو چاہے کہ اس کے بچے یتیم ہوں اور جو چاہے کہ اس کی بیوی بیوہ ہو جائے، وہ اس وادی کے پار میرے مقابلے کے لیے نکل آئے۔‘‘[1] لیکن کسی کو انھیں روکنے کی جراَت نہ ہو سکی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مردانگی سکھلانے کا پروگرام وضع کرتے ہوئے فرمایا: ’’اپنے بچوں کو تیر اندازی، تیراکی، اور گھوڑ سواری سکھلاؤ اور انھیں اچھے اشعار سنایا کرو۔‘‘[2] مردانگی مطلوب ہے اور اہلِ ہمت لوگ اس صفت سے مزین ہونے کی کوشش کرتے ہیں، صحیح لوگ اسے پا کر رفعت و بلندی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ یہ ایک بنیادی صفت ہے۔ لوگوں میں جب مردانگی کی صفات کا فقدان ہو جائے پھر وہ حقیقی مرد نہیں، بلکہ محض مردوں کا لبادہ اوڑھے ہوئے کچھ اور ہی ہوتے ہیں، بلکہ وہ سیلاب کی جھاگ کی طرح رہ جاتے ہیں۔ صحیح عقیدے کی برکت سے مردانگی راسخ ہوتی ہے، صحیح تربیت سے اس میں تہذیب پیدا ہوتی ہے اور اسوۂ حسنہ سے اس میں اضافہ ہوتا ہے۔ مردانگی کا معیار: عوام الناس کے نزدیک مردانگی کا معیار محض مادی معیار ہے۔ انکے ہاں جو بظاہر خوبصورت، تمام قویٰ میں کامل اور کثیر المال ہو، وہ اچھا آدمی یا مرد ہے، جبکہ اسلامی شریعت میں مردوں کا معیار یہ ہے کہ جو اچھے کردار و عمل اور عمدہ اخلاق و عادات کا مالک ہے، وہ صحیح و حقیقی مرد ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک آدمی گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا: (( مَا تُقُوْلُوْنَ فِيْ ھٰذَا؟ )) ’’اس کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: یہ ایسا آدمی ہے کہ اگر پیغامِ نکاح دے تو اسے رشتہ دے دیا جائے، اگر کسی کی سفارش کرے تو مان لی جائے اور اگر یہ کوئی بات کرے تو اسے غور سے سنا جائے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر ایک غریب صحابی کا وہاں سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استفسار فرمایا: [1] أسد الغابۃ لابن الأثیر (ص: ۸۱۹) [2] مصنف عبدالرزاق (۹/ ۱۹)