کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 116
جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پروان چڑھے۔ اس کو طلب کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: (( اَللّٰھُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بَأَحَبِّ ھٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِ إِلَیْکَ، بِأَبِيْ جَھْلٍ أَوْ بِعُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ )) [1] ’’اے اﷲ! ان دو مردوں میں سے جو تجھے زیادہ پیارا ہے اس سے اسلام کی عزت افزائی کر: ابوجہل سے یا عمر بن الخطاب سے۔‘‘ راویِ حدیث بیان کرتے ہیں: ’’ان دونوں میں سے اﷲ کو زیادہ پیارے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نکلے۔‘‘ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس مردانگی کے لیے دعائیں کر رہے تھے جو دعوتِ حق کی نشر و اشاعت اور اسلام کی عزت و سر بلندی کا باعث بنے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام تاریخ کا ایک بہت بڑا واقعہ ہے جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ انھوں نے اسلام لانے کے بعد جلد ہی ’’حقیقی مردانگی‘‘ کا مظاہرہ کیا حتی کہ ان کے اسلام لانے سے قبل مسلمان کھل کر اپنے اسلام کا اظہار نہیں کیا کرتے تھے، مگر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے تو لوگوں نے سرِ عام اپنے اسلام لانے کا اظہار کرنا شروع کر دیا، حتی کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جب سے عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے ہیں تب سے ہم معزز و مکرم ہوگئے ہیں۔‘‘[2] سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مردانگی: سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مردانگی ان کی جسمانی قوت یا گھوڑ سواری میں مہارت جیسی صفات کی وجہ سے نہیں تھی، کیونکہ ان صفات میں کئی قریشی ان سے بھی بڑھے ہوئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مردانگی کا راز ان کی قوتِ ایمانی اور عظیم شخصیت میں پوشیدہ تھا جو ان کی عزت و وقار اور رعب و دبدبے کا باعث تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے چھپ چھپا کر در پردہ ہجرت کا سفر اختیار کیا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گلے میں تلوار لٹکائی اور کعبہ شریف کی طرف چل دیے، طواف کیا، مقامِ ابراہیم پر دو رکعتیں پڑھیں اور [1] مسند أحمد (۲/ ۹۵) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۶۸۱) وقال الترمذي: ’’ھذا حدیث حسن صحیح‘‘ [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۴۸۱)