کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 115
اور فخرو مباہات میں جب کسی کی تعریف اور عزت و شرف بیان کرنا ہو تو کہتے ہیں: ’’ھو من رجالات قومہ‘‘ ’’وہ اپنی قوم کا سب سے بڑا مردِ میدان ہے۔‘‘ جب اس مادے پر مشتمل کلمات قرآن کریم میں وارد ہوتے ہیں تو ان معانی و مفاہیم کے ساتھ ہی بعض دوسرے معانی کا اضافہ بھی ہو جاتا ہے، جن میں مزید بلندی و امتیاز شامل ہو جاتا ہے۔ قرآن کریم نے ’’رجال‘‘ کا لفظ نیک و برگزیدہ لوگوں کے لیے استعمال کیا ہے، جیسے ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلاَّ رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْھِمْ﴾ [یوسف: ۱۰۹] ’’اور ہم نے آپ سے پہلے بھی کچھ ’’مردوں‘‘ کو رسول بنایا اور ان کی طرف وحی بھیجی۔‘‘ اور قرآن کریم کے بعض مقامات پر مردانگی کی یہ صفت حق گوئی و بیباکی، جراَت اور حق پر قائم لوگوں کی مدد و نصرت کے مفہوم و معنیٰ کی تعبیر کے لیے وارد ہوئی ہے، جیسے ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ جَآئَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰی قَالَ یٰمُوْسٰٓی اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَکَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ﴾ [القصص: ۲۰] ’’اور شہر کے دور کنارے سے ایک آدمی بھاگا ہوا آیا اور اس نے کہا: اے موسیٰ! تمھاری قوم کے لوگ تمھیں قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں، تم یہاں سے نکل جاؤ، میں تمھیں نصیحت کرنے اور تمھاری خیرخواہی کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اور ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِِیْمَانَہٗٓ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَقَدْ جَآئَکُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّکُمْ﴾ [المؤمن: ۲۸] ’’اور فرعون کی قوم سے ایک آدمی، جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، اس نے کہا: کیا تم اس آدمی کو محض اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اﷲ ہے؟ جبکہ یہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے دلائل اور نشانیاں بھی لایا ہے۔‘‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کی دعائیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسی ہی مردانگی کا انتظار کر رہے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاون بنے اور