کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 111
’’اﷲ پاک ہے اپنی اتنی تعریفوں کے ساتھ جتنی تعداد میں اس کی مخلوقات ہیں۔ اﷲ پاک ہے اپنی اتنی تعریفوں کے ساتھ کہ جو اس کی مخلوقات کو بھر دینے کے لیے کافی ہوں۔ اﷲ پاک ہے اپنی اتنی تعریفوں کے ساتھ جتنی کہ زمین و آسمان میں اس کی مخلوقات ہیں، اور اﷲ پاک ہے اپنی اتنی تعریفوں کے ساتھ جو زمین و آسمان کی تمام مخلوقات کو بھر دینے کے لیے کافی ہوں۔ اﷲ پاک ہے اپنی اتنی تعریفوں کے ساتھ جو اس کی کتاب میں مذکور ہیں، اور اﷲ پاک ہے اپنی اتنی تعریفوں کے ساتھ جو اس کی کتاب میں مذکور تمام مخلوقات کو بھر دینے کے لیے کافی ہوں۔ اﷲ پاک ہے اپنی اتنی تعریفوں کے ساتھ جتنی کہ کل مخلوقات ہیں۔ اﷲ پاک ہے اپنی اتنی تعریفوں کے ساتھ جو مخلوقات کی تمام چیزوں کو بھر دینے کے لیے کافی ہوں۔ جس طرح یہاں تسبیح (سبحان اللّٰه ) کا بیان ہے، اسی طرح الحمد ﷲ بھی کہے۔‘‘ یہ نسائی اور ابن حبان کی روایت ہے، جبکہ معجم طبرانی کبیر میں یہ الفاظ بھی ہیں: ’’اسی طرح ہی تکبیر (اللّٰه اکبر) کہے ۔‘‘ کثرتِ ذکر: اے مسلمان! آپ جتنا بھی ذکر کریں اور اﷲ کی حمد و ثنا بیان کریں گے، پھر بھی آپ اس کی ثنا کو مکمل بیان نہیں کر سکیں گے اور نہ اس کا اتنا ذکر ہی کر پائیں گے جتنا اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کو محبوب ہے۔ اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ عالمِ علوی وسفلی (زمین و آسمان) کی تمام مخلوقات اﷲ کے ذکر اور تسبیح میں ہمیشہ مشغول رہتی ہیں اور عبودیت و بندگی کے اس شرف سے صرف وہی جن و انس سرتابی کرتے ہیں جو کافر ہیں، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْھِنَّ وَ اِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَ لٰکِنْ لَّا تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا﴾ [الإسراء: ۴۴] ’’ساتوں آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے، وہ سب اﷲ کی تسبیح بیان کرتے ہیں، اور مخلوقات میں سے کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اﷲ کی تسبیح نہ کرتی ہو، لیکن تم لوگ ان چیزوں کی تسبیح کوسمجھتے نہیں ہو، بے شک اﷲ بہت ہی بردبار اور بخشنے والا ہے۔‘‘