کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 109
درود و سلام بھی ذکر میں شامل ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھنا بھی ذکرِ الٰہی میں سے ہے، لیکن یہ ذکرِ الٰہی اپنے ایجاد کردہ انداز اور خود ساختہ الفاظ کے ساتھ جائز نہیں ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَھُوَ رَدٌّ )) [1] ’’جس نے کوئی ایسا کام کیا جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو وہ کام مردود ہے ۔‘‘ اذکار میں سے بعض وہ ہیں جو نمازوں کے بعد کرنے کے ساتھ خاص کیے گئے ہیں اور بعض وہ ہیں جو صبح و شام کیے جاتے ہیں۔ بعض اذکار کے لیے بعض اسباب ہیں اوران میں سے بعض مطلق اور عام ہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر وقت ذکرِ الٰہی سے رطب اللسان رہے، تا کہ اس کا شمار ’’الذاکرین‘‘ میں سے ہو۔ ذکرِ الٰہی جہاد سے افضل ہے: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ عَمَلًا أَنْجٰی لَہٗ مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ )) قَالُوْا: وَلَا الْجِھَادُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ؟ قَالَ: (( وَلَا الْجِھَادُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، إِلَّا أَنْ یَّضْرِبَ بِسَیْفِہٖ حَتّٰی یُنْقَطَعَ )) [2] ’’ابنِ آدم نے ایسا کوئی عمل نہیں کیا جو ذکرِ الٰہی سے زیادہ اسے اﷲ کے عذاب سے نجات دلانے والا ہو۔‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اﷲ کی راہ میں جہادکرنا بھی نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اﷲ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں۔ ہاں! مگر وہ شخص جو اپنے گھر سے اپنی جان و مال کے ساتھ ( جہاد کے لیے) نکلا اور واپس نہیں لوٹا اور جامِ شہادت نوش کر گیا۔‘‘ جامع اذکار: مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ جامع قسم کے اذکار میں مشغول رہے اور ایسے ہی دوسرے ثابت شدہ اذکار سے اپنی زبان کو تر رکھے تا کہ اجرِ عظیم کا مستحق بنے۔ ام المومنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۷۱۸) [2] مصنف ابن أبي شیبۃ (۱۰/ ۳۰۰) المعجم الکبیر للطبراني (۲۰/ ۱۶۶) نیز دیکھیں: صحیح الجامع، برقم (۵۶۴۴)