کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 105
دوسرا خطبہ ذکر الہٰی امام و خطيب فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: اﷲ کے بندو! اﷲ کا تقویٰ اختیار کرو، اس کی اطاعت کرو اور اس کے غضب و عقاب سے ڈرو، کیونکہ اس کی پکڑ بڑی سخت اور اس کا عذاب بڑا ہی دردناک ہے۔ اﷲ تعالیٰ سے تمھارے اعمال میں سے کوئی بھی کام پوشیدہ نہیں ہے۔ ذکر کی ترغیب: اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا . وَّ سَبِّحُوْہُ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلًا﴾[الأحزاب: ۴۱، ۴۲] ’’اے ایمان والو! اﷲ کا بکثرت ذکر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرو۔‘‘ اس ارشادِ گرامی میں اﷲ تعالیٰ نے ذکر کرنے کی رغبت دلائی ہے، اس پر ہمیشگی کرنے کا حکم دیا ہے اور اس عمل کو اپنے قرب کا ذریعہ قرار دیا ہے، اور ساتھ ہی اس عمل پر عظیم اجر و ثواب اور عذاب سے نجات کا وعدہ فرمایا ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ الذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا﴾ [الأحزاب: ۳۵] ’’اﷲ کا بکثرت ذکر کرنے والے مرد و زن کے لیے اﷲ نے مغفرت و بخشش اور اجرِ عظیم تیار کر رکھا ہے۔‘‘ ذکرِ الٰہی ایسا عمل ہے جو زبان پر آسان اور میزانِ حسنات میں بڑا وزنی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم