کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 103
یَبْلُغُنِيْ أَیْنَمَا کُنْتُمْ )) [1] ’’میری قبر کو عید اور اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ اور مجھ پر درود بھیجو، تم جہاں کہیں بھی ہو تمھارا درود مجھے پہنچتا ہے۔‘‘ اﷲ کے بندو! اﷲ سے ڈرو، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ظاہر و باطن میں اسی کا ڈر اور خوف دلوں میں رکھو: ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ﴾ [التوبۃ: ۱۱۹] ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جائو۔‘‘ مسلمانو! اﷲ تعالیٰ کی شریعت کو اس کے بندوں پر نافذ کرنا اس کی تعظیم کا حصہ ہے۔ مسلمانوں کے ائمہ اور قائدین پر واجب ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی شریعت کے سامنے جھک جائیں اور اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں اور اس کی شریعت کی مخالفت کرنے والے اصولوں اور کمیونزم، سوشلزم، سیکولرزم، نیشنل ازم اور دیگر تخریب کار خود ساختہ مذاہب کے خلاف برسرِپیکار ہوجائیں۔ اﷲ تعالیٰ کے حکم میں شرک کرنا، اس کی عبادت میں شرک کرنے کے مترادف ہے، جس شخص نے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کا انکار کیا اور جس شخص نے اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے علاوہ کسی دوسرے قانون کے متعلق یہ کہا ہے کہ یہ احسن یا اس کے مثل ہے، یا یہ عقیدہ بنایا کہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف حکم دینا جائز ہے تو ایسے شخص نے اس شریعت کا انکار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی ہے اور وہ ملتِ اسلامیہ سے خارج ہوگیا، جیسا کہ اﷲ جل و علا کا ارشاد ہے: ﴿ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْابِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْٓا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّھُمْ ضَلٰلًا بَعِیْدًا﴾ [النساء: ۶۰] ’’کیا تونے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو گمان کرتے ہیں کہ وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں، جو تیری طرف نازل کیا گیا اور جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا۔ چاہتے یہ ہیں کہ [1] مسند أبي یعلیٰ (۱/ ۳۶۱) الأحادیث المختارۃ للضیاء المقدسي (۱/ ۲۴۴)