کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 102
’’بلاشبہہ بد ترین لوگ جن کی زندگی میں قیامت قائم ہوگی وہ ہیں جو قبروں کو مساجد بناتے ہیں۔‘‘ مسلمانو! بلاشبہہ قبروں پر عمارتیں کھڑی کرنا، انھیں چونا گچ کرنا، ان کی تجصیص کرنا اور ان پر طرح طرح کی تحریریں لکھنا، سب غیر مشروع اور ہمارے دین اسلام میں ممنوع اور مردود ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: (( نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَنْ یُّجَصَّصَ الْقَبْرُ وَأَنْ یُّقْعَدَ عَلَیْہِ وَأَنْ یُّبْنیٰ عَلَیْہِ )) [1] ’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کی تجصیص (چونا گچ) کرنے، اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت کھڑی کرنے سے منع فرمایا۔‘‘ امام ترمذی رحمہ اللہ وغیرہ نے صحیح سند کے ساتھ یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں: (( وَأَنْ یُّکْتَبَ عَلَیْہِ )) [2] ’’یہ کہ اس پر کچھ لکھا جائے۔‘‘ صحیح مسلم میں ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے (اپنے داماد) ابو الہیاج الاسدی کو کہا: ’’أَلَا أَبْعَثُکَ عَلٰی مَا بَعَثَنِيْ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَنْ لَّا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَہٗ وَلَا قَبْراً مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّیْتَہٗ‘‘[3] ’’کیا میں تمھیں اس مہم پر روانہ نہ کروں جس پر خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روانہ کیا تھا، وہ یہ کہ ہر تصویر کو مٹا دو اور ہر اونچی قبر کو برابر کر دو۔‘‘ قبریں دعا کی قبولیت کی جگہیں نہیں ہیں۔ ابو یعلی اور حافظ ضیا نے ’’المختارۃ‘‘ میں روایت کیا ہے کہ حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے قریب ایک دراڑ اور سوراخ کی طرف آتا اور اس میں داخل ہو کر دعا کرتا ہے۔ حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے اسے منع کیا اور فرمایا: کیا میں تمھیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے اپنے باپ حسین رضی اللہ عنہ اور انھوں نے اپنے نانا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَا تَتَّخِذُوْا قَبْرِيْ عِیْدًا وَّلَا بُیُوْتَکُمْ قُبُوْرًا وَّصَلُّوْا عَلَيَّ فَإِنَّ تَسْلِیْمَکُمْ [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۹۷۰) [2] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۰۵۲) [3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۹۶۹)