کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 98
نشانات مٹا دیے، اس نا سور کی جڑیں کا ٹ ڈالیں اور اس بیما ری کے تما م جراثیم ہلاک کر دیے۔ ان خرافات اور توہمات میں سر فہرست یہ فضول خیا لا ت تھے جو انسا نی عقل کی تو ہین ہے کہ لوگ بتوں اور پتھروں کے سا تھ امیدیں وا بستہ کر لیتے اور انھیں اپنے دکھوں کا مداوا سمجھتے۔ جب ان پر کو ئی جانور پیشاب کر جا تا تو انھیں چھوڑ دیتے۔ کچھ دوسرے لوگ کھجوروں اور دیگر کھا نے کی چیزوں سے معبود بناتے، اور جب بھوک لگتی تو انھیں ہی کھا جاتے۔ ایک گروہ ایسا بھی تھا جو شعبدہ با زی اور قیافہ شناسی کا بازار گرم کرنے کے لیے اور عقل وفکر کو سلب کرنے کے لیے تعویذ، دھاگوں، گنڈھوں، اور عملیا ت کا سہا را لیتا۔ جب اسلا م خالص توحید کا عقیدہ لے کر آیا اور زمین کا کونہ کونہ اس کے نور سے منور ہوگیا تو اس عقیدہ توحید نے دلوں کو غیراللہ کی غلامی سے آزادی بخش کر عزت وشرف اور پاکیزگی کی بلندیوں پر بٹھایا اور عقلوں کو خرافات اور صنم پرستی کی گندی دلدل اور بھنور سے نکال باہر کیا۔ اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ ایک مسلمان کا عقیدہ ہی اس کی سب سے قیمتی چیز اور متاعِ جان ہے، جس کے ہو تے ہوئے وہ شدید ترین چیلنجز اور مشکل ترین آزما ئشوں کا صبر وتحمل کے ساتھ مقابلہ کر سکتا اور ہر قسم کی پریشانی، اضطراب، بے چینی اور نفسیاتی افسردگی کا مردانہ وار سامنا کر سکتا ہے۔ اسی کے ذریعے وہ گمراہیوں، جھوٹے خیالات، خرافات اور شعبدہ بازی کے سیلاب کے آگے بند باندھ سکتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے: { قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ھُوَ مَوْلٰنَا وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ} [التوبۃ: ۵۱] ’’کہہ دے ہمیں ہر گز کوئی نقصان نہ پہنچے گا مگر جو اﷲ نے ہمارے لیے لکھ دیا، وہی ہمارا مالک ہے اور اﷲ ہی پر پس لازم ہے کہ ایمان والے بھروسا کریں۔‘‘ نیز فرمایا: { قُلْ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ھَلْ ھُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖٓ} [الزمر: ۳۸] ’’کہہ تو کیا تم نے دیکھا کہ وہ ہستیاں جنھیں تم اﷲ کے سوا پکارتے ہو، اگر اﷲ مجھے کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے تو کیا وہ اس کے نقصان کو ہٹانے والی ہیں؟‘‘