کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 95
’’إني لأدع ما لا بأس فیہ خشیۃ الوقوع مما فیہ بأس‘‘ ’’جس میں کوئی گناہ نہ ہو میں اس کو اس خدشے سے چھوڑ دیتا ہوں کہ کہیں میں ایسے عمل میں نہ پڑ جاؤں جس میں کوئی گناہ ہو۔‘‘ گناہ کو حقیر نہ جانیں: سامعین کرام! یہ بات بھی واضح ہو جانی چاہیے کہ کچھ گناہ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بڑھتے رہتے ہیں حتیٰ کہ آدمی کے میزان کو بھاری کردیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایسے گناہ ہیں کہ آدمی ان میں اس طرح کا کوئی بڑا خطرہ محسوس نہیں کرتا۔ مثلاً بعض اوقات منہ سے کوئی ایسی بات نکل جاتی ہے جو اتنی کڑوی ہوتی ہے کہ اگر اسے سمندر میں ڈال دیا جائے تو سارا پانی کڑوا ہو جائے۔[1] یا آدمی اس کی پرواہ نہ کرے لیکن وہ آدمی کو لیکر جہنم میں ستر سال تک پھینک دیتی ہے،[2] یا وہ ایسی بات ہوتی ہے جو کسی برائی کو جنم دیتی ہے، اور لوگ اس کے پیچھے لگ کر گمراہ ہو جاتے ہیں تو اس کا اپنا گناہ اور جو بھی اس کے بعد اس کے مطابق عمل کرے اس کا بوجھ بھی اس کے سر پڑ جاتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: { لِیَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَھُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَھُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ اَلَا سَآئَ مَا یَزِرُوْنَ} [النحل: ۲۵] ’’تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ بوجھ ان کے بھی جنھیں وہ علم کے بغیر گمراہ کرتے ہیں۔ سن لو! برا ہے جو بوجھ وہ اٹھا رہے ہیں۔‘‘ فرمانِ نبوی ہے: (( لا تقتل نفس ظلما إلا کان علی ابن آدم الأول کفل من دمھا لأنہ أول من سن القتل )) [3] ’’ جو شخص بھی مظلوم قتل ہوتا ہے اس کا گناہ آدم کے پہلے بیٹے کو جاتا ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ جاری کیا۔‘‘ [1] دیکھیں: سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۸۷۵) [2] مسند أحمد (۲/ ۲۳۶) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۳۱۵۷) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۶۷۷)