کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 94
۲۔ بعض اعمال کے کئی گنا اجر کے متعلق صحیح تصور نہ ہونا۔ کیونکہ کسی ایک چیز کو پکڑے رکھنا وہ اس کے تصور اور ادراک ہی کی ایک قسم ہے۔ امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’من لمح فجر الأجر ھان علیہ ظلام التکلیف‘‘ ’’جس شخص نے اجر کی صبح کا نظارہ کر لیا تو اس کے لیے (شرعی) پابندی کا اندھیرا آسان ہو جاتا ہے۔‘‘ ۳۔ بعض لوگ اس خام خیالی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ وہ ایمانی معاملات میں درجہ کمال کو پہنچ چکے ہیں۔ جو ان لوگوں کے سامنے نیک اعمال کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ کھڑی کر دیتا ہے۔ ۴۔ سستی اور عاجزی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کیفیتوں سے پناہ مانگا کرتے تھے۔[1] اگرچہ عاجز آدمی بعض حالات میں عدم قدرت کی بنا پر معذور ہوتا ہے لیکن سستی کا شکار، جو طاقت کے ہوتے ہوئے بھی کاہلی سے کام لیتا ہے، شائد معذور نہ سمجھا جائے۔ قرآن مجید میں ہے: { وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَہٗ عُدَّۃً وَّلٰکِنْ کَرِہَ اللّٰہُ انْبِعَاثَھُمْ۔فَثَبَّطَھُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْامَعَ الْقٰعِدِیْنَ} [التوبۃ: ۴۶] ’’اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ رکھتے تو اس کے لیے کچھ سامان ضرور تیار کرتے اور لیکن اﷲ نے ان کا اٹھنا ناپسند کیا تو انھیں روک دیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔‘‘ ۵۔ آخری سبب یہ ہے کہ جائز امور میں بکثرت مشغول رہنا جس کی بنا پر آدمی سست اور ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ اس لیے سلف صالحین کا یہ واضح طریقہ تھا کہ وہ ہر جائز اور غافل کردینے والے امر میں اتنی زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ اگر دل ان چیزوں کے ساتھ مانوس ہوجائے تو یہ اس کو مستحب کہہ کر چھوڑ دے گا اور نیکی کمانے کے مواقع سے محروم ہوجائے گا۔ اس لیے امام احمد رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۶۶۸) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۷۰۶)