کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 93
اور سب لوگوں سے پہلے غلہ خرید لیتا ہے اس کا چہرہ بھی خوشی سے چمک رہا ہوتا ہے، اور فقیروں کے گھروں میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اسے ذلت کے بازار میں پھینک دیتے ہیں، اور وہ لوگ جو بڑے عزت دار تھے ان کے چہروں پر ذلت کے آثار عیاں ہوتے ہیں اس صورتِ حال کو دیکھ کر میں نے کہا: اے میری جان! اس صورتحال سے یہ اشارہ حاصل کرلے کہ جس کے پاس ضرورت کے وقت نیک اعمال ہوں گے لوگ اس پر رشک کریں گے، اور جس کے پاس سوال کا جواب ہوگا وہ بہت زیادہ خوش ہوگا۔‘‘ امام مالک رحمہ اللہ نے موطأ میں درج کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض دعاؤں میں کہا کرتے تھے: (( اقبضني إلیک غیر مضیع ولا مفرط )) [1] ’’میری روح اس حالت میں قبض کرنا کہ میں نہ کسی چیز کو ضائع کرنے والا ہوں نہ لاپرواہی برتنے والا۔‘‘ اور فرمانِ باری تعالیٰ ہے: { وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ} [الکھف: ۲۸] ’’اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھ جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں۔‘‘ اعمال میں کوتاہی کے اسباب: اللہ کے بندو! تقویٰ اختیار کرو، اور یہ ذہن نشین کر لو کہ اعمال میں کوتاہی کے بہت زیادہ اسباب ہیں جن کو شمار کرنا مشکل ہے، تاہم اہم ترین اسباب حسب ذیل ہیں: ۱۔ مسلمان کی کئی گنا اجر کی اہمیت و ضرورت سے غفلت۔ ان نیک اعمال کے ذریعے فرائض میں پیدا ہونے والا بہت بڑا نقصان پورا ہو جاتا ہے جبکہ نیکی کے زادِ راہ کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: { وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی} [البقرۃ: ۱۹۷] ’’اور زادِ راہ لے لو کہ بے شک زادِ راہ کی سب سے بہتر خوبی (سوال سے) بچنا ہے۔‘‘ [1] موطأ الإمام مالک (۲/ ۸۲۴)