کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 89
اے بندگانِ الٰہی! آپ کی خدمت میں مختلف مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔ ان مثالوں سے واضح ہو جائے گا کہ ہم نیک اعمال میں جلدی کرنے سے کس قدر دور ہیں؟ ۱۔صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز جنازہ پڑھتے، پھر واپس آجاتے۔ جب انھیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( من تبع جنازۃ فلہ قیراط )) [1] ’’جو جنازے کے ساتھ آیا تو اس کے لیے ایک قیراط اجر ہو گا۔‘‘ تو وہ فرمانے لگے: ’’ہم نے بہت سارے قیراطوں میں لا پرواہی برتی۔‘‘ دیکھیں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ندامت کا اظہار کر رہے ہیں اور ان قیراطوں کو کھو دینے پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں، اور کیوں نہ ہو جبکہ ایک قیراط احد پہاڑ کی طرح ہے! ۲۔ صحیحین میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی قدر ہے: ’’جس نے صبح شام سو مرتبہ ’’سبحان اللّٰه وبحمدہ‘‘ پڑھا، اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے، چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔‘‘[2] ۳۔ صحیح مسلم ہی میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم میں سے کوئی ہر روز ایک ہزار نیکی کمانے سے عاجز ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم نشینوں میں سے ایک نے سوال کیا: ہم سے کوئی ایک ہزار نیکیاں کس طرح کما سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سو مرتبہ ’’سبحان اللّٰه ‘‘ کہنے سے ایک ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں یا اس کی ایک ہزار غلطیاں مٹا دی جاتی ہیں۔[3] ۴۔ مسند احمد اور سنن اربعہ میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے ’’سبحان اللّٰه وبحمدہ‘‘ کہا اس کے لیے جنت میں ایک کھجور لگا دی جاتی ہے۔‘‘[4] سامعینِ محترم! اللہ آپ کی حفاظت کرے۔یہ کتنی زبردست اور بے پناہ نیکیاں ہیں اور ان [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۲۶۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۹۴۵) [2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۰۴۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۹۱) [3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۹۸) [4] صحیح۔ سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۴۶۴)