کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 87
نیک اعمال میں کوتاہی امام و خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود الشریم حفظہ اللہ خطبۂ مسنونہ اور حمد و ثنا کے بعد: اے لوگو! میں تمھیں اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور خوشحالی اور تنگی میں اسی کے دامن کو تھامنے کی تلقین کرتا ہوں۔ نہ حق کو باطل کے ساتھ ملاؤ اور نہ اسے چھپاؤ، اور تم جانتے ہو (کہ ایسا کرنا بہت بڑا جرم ہے)اور جان لو کہ تمھارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کا انعام ہیں۔ پھر بھی تم اس سے ڈرتے نہیں؟ مواقع ضائع کر دینا نادانی ہے: اے بندگانِ الٰہی! یہ دنیا مثالوں اور قابل عبرت باتوں سے بھری پڑی ہے۔ لوگ وقتاً فوقتاً اپنی مجلسوں میں اپنی زندگی کے تجربات اور مشاہدات کا ذکر کرتے رہتے ہیں، اور اکثر اوقات یہ بات موضوعِ بحث لاتے ہیں کہ وہ لوگ کس قدر بیوقوف ہیں جو قسمت کی طرف سے دیے گئے مواقع ضائع کر دیتے اور ظاہری فوائدکے حصول میں، خصوصاً وہ فوائد اور مصالح جن کا تعلق رزق سے ہو، لاپرواہی برتتے ہیں، جبکہ ان کی قیمت بھی بہت تھوڑی ہو لیکن نتیجے میں بہت بڑی کامیابی اور وافر مقدار میں رزق مہیا ہو جائے؟ یہ ایک فطری اور معروف بات ہے کہ اگر کسی کو کسی چیز میں کم خرچ کر کے بہت زیادہ نفع حاصل ہو اور وہ اس کے حصول میں لاپرواہی سے کام لے تو ساری دنیا اس کو بے وقوف اور کم عقل کہے گی، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے خلاف یہ دعوی دائر کر دے کہ یہ کم خرچے میں بہت بڑا منافع بلا عذر ضائع کر رہا ہے لہٰذا اس کے تصرفات پر کم عقلی کی وجہ سے پابندی لگا دی جائے۔ یہاں ہم جس معاملے پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں یہ اس کیفیت کے ساتھ ملتا جلتا ہے جس کا ہم نے ابھی مختصراً ذکر کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ معاملہ آخرت کا معاملہ ہے، دنیا کا نہیں۔ وہ قابل ترجیح بات ہے، لائقِ نظر انداز نہیں، بلکہ وہ قیصر و کسریٰ کے خزانوں سے کہیں بہتر، قارون کے مال سے بہت بڑھ کر قیمتی اور ملکۂ سبا کے ذرائع پیداوار اور نعمتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ تو وہ نیکیاں ہیں