کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 75
رازوں میں سے ایک راز اور مخلوقِ الٰہی میں جاری الٰہی قوانینِ فطرت میں سے ایک قانون ہے جو تقدیر کے مطابق چلتا ہے اور انتہائے غایت تک جائے گا۔ یہ حکمت و علم کے مالک کی تدبیر ہے۔ اسی حکمت کا یہ تقاضا تھا کہ معاشرے اپنی صفات اور خوبیوں میں متنوع اور بوقلموں ہوں، ہر جماعت چند ایسی مشترکہ صفات سے تشکیل پائے جو اس میں الفت، اتحاد، اتفاق اور استحکام پیدا کر دے، اور پھر وہ ایک جسم کے مانند نظر آئے۔ فی الوقت ہر جماعت یا مجموعہ چند مستقل اور انفرادی خصائص اور عوامل کی بنا پر دوسرے مجموعے سے ممتاز نظر آئے، اس طرح ہر مجموعے کے افراد کے درمیان باہمی مشابہت اسے بکھرنے اور ٹوٹنے سے محفوظ رکھتی ہے، اور دوسرے مجموعے اور قوم کی مخالفت اسے کمزور ہونے اور اس میں ضم ہونے سے بچا کر رکھتی ہے۔ دینِ اسلام دینِ فطرت ہے جو اس سنتِ الٰہی اور نظامِ ربانی کو برقرار رکھتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے جس طرح لوگوں کو قوموں اور قبائل میں تقسیم کیا ہے اسی طرح ان کو امتیں بھی بنایا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے: { لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا ھُمْ نَاسِکُوْہُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ وَادْعُ اِلٰی رَبِّکَ اِنَّکَ لَعَلٰی ھُدًی مُّسْتَقِیْمٍ} [الحج: ۶۷] ’’ہر امت ہی کے لیے ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے جس کے مطابق وہ عبادت کرنے والے ہیں، سو وہ تجھ سے اس معاملے میں ہرگز جھگڑا نہ کریں اور تو اپنے رب کی طرف دعوت دے، بے شک تو یقینا سیدھے راستے پر ہے۔‘‘ نیز فرمایا: { لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّ مِنْھَاجًا وَ لَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ} [المائدۃ: ۴۸] ’’تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور ایک طریقہ مقرر کیا ہے، اور اگر اﷲ چاہتا تو تمھیں ایک امت بنا دیتا اور لیکن تاکہ وہ تمھیں اس میں آزمائے جو اس نے تمھیں دیا ہے، پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو، اﷲ ہی کی طرف تم سب کا لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمھیں بتائے گا، جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔‘‘