کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 73
تعالیٰ کی حکمت کے مطابق، جو اس کے بندوں کی تخلیق اور عدل میں کار فرما ہے، طے کیے گیا، اس طرح اسی قدر اس کے حریف کی غلطیاں لے کر اس کے سر پر ڈال دی گئیں اور پھر اسے آگ کی سزا سنا دی۔ لہٰذا سزا کی حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف اس کے ظلم کی وجہ سے ہے، اﷲ تعالیٰ نے اس کو ظلم اور جرم کے بغیر سزا نہیں دی۔ اس طرح حدیث اور آیت دونوں کا ایک ہی معنی ہوجاتا ہے۔ اہل سنت کے ہاں ان میں کوئی تعارض پیدا نہیں ہوتا۔ جو اس امت کے سلف صالحین اور بہترین لوگ ہیں وہ کتاب اﷲ اور سنتِ رسول میں تضاد تلاش نہیں کرتے، بلکہ دونوں پر ایک ساتھ ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ یہ دونوں ایک اﷲ تعالیٰ ہی کی طرف سے نازل کردہ ہے، جو واحد ہے، احد ہے، فرد ہے، بے نیاز ہے، اس کی ذات، نام اور صفات بڑی مقدس ہیں۔ وہ شریک اور مثالوں سے پاک ہے۔ فرمایا: { لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَھُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ} [الشوریٰ: ۱۱] ’’اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔‘‘ نیک اعمال کی حفاظت سے غافل نہ ہوں: اس لیے سامعین کرام! اپنے نیک اعمال کے ذخیروں کی حفاظت کے لیے بہت زیادہ حرص رکھو، زمین پر ناحق ظلم کرنے اور مخلوق پر زیادتی کرنے سے بچو تم کامیاب ہوجاؤ گے اور اﷲ خالق مالک اور پروردگارِ عالم کی خوشنودی پا لو گے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: { فَلَمَّآ اَنْجٰھُمْ اِذَا ھُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُکُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ مَّتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُکُمْ فَنُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ} [یونس: ۲۳] ’’پھر جب اس نے انھیں نجات دے دی، اچانک وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو! تمھاری سرکشی تمھاری جانوں ہی پر ہے، دنیا کی زندگی کے فائدے کے لیے، پھر ہماری ہی طرف تمھارا لوٹ کر آنا ہے، تو ہم تمھیں بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔‘‘