کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 71
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت میں مفلس وہ ہے جو روزِ قیامت نماز، روزے اور زکاۃ کے ساتھ آئے گا، جب وہ آئے گا تو اس نے کسی شخص کو گالی دی ہوگی، کسی انسان پر الزام لگایا ہوگا، کسی آدمی کا مال کھایا ہوگا، کسی بندے کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوا ہوگا۔ ان تمام کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی۔ اس کے ذمے جو ادائیگیاں ہوں گی ان کا فیصلہ ہونے سے پہلے ہی اگر اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو ان شکایت کرنے والوں کی غلطیاں لے کر اس کے سر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘ یہ ایک عمدہ تصویر کشی، بلند مرتبہ بیان اور انتہائی دقیق اور ماہرانہ انداز میں معاملے کا حل پیش کیا گیا ہے۔ اس کے بے مثال نکات ایک ایسے پر مغز خطاب میں یکجا کر دیے گئے ہیں کہ جس کے حروف و الفاظ گو انتہائی کم ہیں لیکن معانی اور مقاصد بہت زیادہ ہیں۔ علمائے کرام اس کی مراد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ ہے مفلسی کی حقیقت! جس کے پاس مال نہیں ہوتا یا بہت تھوڑا ہوتا ہے اور لوگ اسے مفلس کہتے ہیں یہ افلاس کی حقیقت نہیں، کیونکہ یہ تو ایک ایسی حالت ہے جو اس کی موت کے ساتھ ہی زائل اور منقطع ہوجاتی ہے، یا جب اس کے بعد زندگی میں فراوانی میسر ہو تب بھی یہ حالت ختم ہوجاتی ہے۔حالانکہ مفلسی کی حقیقت وہ ہے جو اس حدیث میں بیان ہوئی ہے۔ ایسا شخص مکمل تباہ ہونے والا اور بالکل محروم ہوتا ہے جس کی نیکیاں لے کر اس کے قرض خواہوں کو دے دی جائیں، جب نیکیاں ختم ہوجائیں تو ان کے گناہ لے کر اس کے پلڑے میں ڈال دیے جائیں، پھر اسے آگ میں ڈال دیا جائے۔ یہ ہے اس کا مکمل خسارہ! ہلاکت اور مفلسی: اس میں کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ اصحابِ عقل و دانش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کو شعوری طور پر سمجھیں۔ انھیں علم ہونا چاہیے کہ آدمی دنیا میں جو عمل بھی کرتا ہے اور پھر اسے آخرت کے لیے ذخیرہ کر لیتا ہے ان تمام اعمال پر ہر وقت خطرے کی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ان اعمال میں آہستہ آہستہ کمی واقع ہوتی رہتی ہے، حتی کہ ان کے پھول مرجھا جاتے ہیں، ان کے چشمے