کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 70
ایسے ہی وہ لوگ بھی بڑے محتاط ہوتے ہیں جن کے پاس سونے چاندی کے ڈھیر، بہترین گھوڑے مویشی اور بڑے بڑے فارم ہاؤس ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ان مادی ذخائر کو اکٹھا کرنے اور مالی بیلنس کو بڑھانے کے لیے اپنی زندگیاں صرف کر دیتے ہیں اور خون پسینہ ایک کر دیتے ہیں تاکہ یہ مال بوقت ضرورت ان کے کام آسکے اور انھیں حادثاتِ زمانہ کی دست برد سے محفوظ رکھے۔ اس لیے یہ لوگ اس مال کو محفوظ کرنے کی خاطر اور اس میں اضافہ کرنے کے لیے اس سے سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اسے ضائع اور فنا کرنے سے ہمیشہ محتاط رہتے ہیں۔ ان بیدار مغز لوگوں کو چاہیے کہ وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے پیچھے چلتے ہوئے، آپ کی سیرت کو اپناتے ہوئے، جو حدیث اور سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے، اس درست طریقے اور صراط مستقیم پر گامزن ہوں جس کے واضح خطوط ایک عظیم الشان حدیث میں بیان کیے گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں گفتگو کا آغاز سوالیہ انداز اپنا کر کیا ہے کیونکہ سوالیہ انداز اپنانے کا ایک یہ فائدہ ہوتا ہے کہ انسان مکمل دھیان سے بات سنتا ہے، اس کا ذہن تیز ہوجاتا ہے، دل میں بات بیٹھ جاتی ہے اور اسے سمجھنا اور یاد کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ مفلسی کی غربت: صحیح مسلم اور جامع ترمذی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( أتدرون ما المفلس؟قالوا: المفلس فینا من لا درھم لہ، ولا متاع، فقال رسول اللّٰه ۔صلی اللّٰه علیہ وسلم: ’’إن المفلس من أمتي من یأتي یوم القیامۃ بصلاۃ، وصیام، وزکاۃ، ویأتي، وقد شتم ھذا، وقذف ھذا، وأکل مال ھذا، وسفک دم ھذا، وضرب ھذا، فیعطی ھذا من حسناتہ، وھذا من حسناتہ، فإن فنیت حسناتہ قبل أن یقضی ما علیہ، أخذ من خطایاھم فطرحت علیہ ثم طرح في النار )) [1] ’’کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ انھوں نے کہا: ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم ہوں نہ کوئی سامان۔‘‘ [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۸۱) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۴۱۸)