کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 66
مومن ہو۔‘‘ یتیموں کا ناحق مال کھانے والوں کا بیان کرتے ہوئے اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: { اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا} [النساء: ۱۰] ’’بے شک جولوگ یتیموں کے اموال ظلم سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ کے سوا کچھ نہیں کھاتے اور عنقریب وہ بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے۔‘‘ ماپ تول میں کمی کرنے والوں کو ڈراتے ہوئے اﷲ تعالیٰ کہتے ہیں: { وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ ، الَّذِیْنَ اِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ ، وَاِذَا کَالُوْھُمْ اَوْ وَّزَنُوْھُمْ یُخْسِرُوْنَ ، اَلاَ یَظُنُّ اُوْلٰٓئِکَ اَنَّھُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ} [المطففین: ۱، ۴] ’’بڑی ہلاکت ہے ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ کہ جب لوگوں سے ماپ کر لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب انھیں ماپ کر، انھیں تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔ کیا یہ لوگ یقین نہیں رکھتے کہ بے شک وہ اٹھائے جانے والے ہیں؟‘‘ حضرت ابو امامہ حارثی بیان فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے اپنی قسم کے ساتھ کسی مسلمان آدمی کا حق مارا، اﷲ تعالیٰ نے اس کے لیے آگ واجب قرار دے دی اور جنت حرام کر دی۔‘‘ ایک آدمی نے کہا: چاہے تھوڑی سی چیز ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چاہے پیلو کی ایک ٹہنی ہی ہو!‘‘ [1] حضرت عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس کو ہم نے کسی کام پر ذمے دار مقرر کیا، پھر اس نے ایک دھاگا بھی چھپایا تو یہ وہ خیانت ہوگی جسے وہ لے کر روزِ قیامت حاضر ہوگا۔‘‘[2] [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۳۷) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۸۳۳)