کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 65
چلنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں بلکہ حرام، گندی، خبیث کمائی اور حرام طریقے سے مال پر قبضہ جمانے میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کرتے اور علی الاعلان اس کا اظہار کرتے پھرتے ہیں۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ مسلم معاشروں میں یہ قبیح چیز اور قابل نفرت طریقہ کار روز بروز عام ہوتا جا رہا ہے۔ سود خوری، رشوت ستانی، چوری چکاری، لوٹ مار، حرام اشیا جیسے: شراب فروشی، نشے کا کاروبار، موسیقی اور سامان لہو و لعب کی تجارت، ماپ تول میں کمی، خرید و فروخت اور معاملات میں فراڈ اور دھوکا دہی، جھوٹی قسمیں کھا کر سودا بیچنا، یتیموں اور بے کسوں کا مال ہڑپ کر جانا، مختلف طریقوں اور حیلوں سے لوگوں کے اموال، حقوق اور جائیداد پر قبضہ جما لینا، نہ اﷲ کا خوف کھانا نہ بندوں سے کچھ شرم کرنا۔ یہ وہ عام بیماریاں ہیں جو جونک کی طرح مسلم معاشروں کو لگ چکی ہیں، ان کا خون چوس رہی ہیں اور دیمک کی طرح انھیں آہستہ آہستہ کھا رہی ہیں۔ جب ضمیر مردہ ہوجائے اور مروت اور اخلاقیات اپنا بستر سمیٹ لے تب یہ لالچ، حرص و طمع اور تکبر کی تمام مکروہ شکلیں اپنے خون آشام پنجے نکالے معاشرے کو کھانے کے لیے چاروں طرف سے حملہ آور ہوجاتی ہیں۔ شائد اس زمانے پر وہ حدیث نبوی صادق آتی ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی قطعاً پرواہ نہیں کرے گا کہ حلال سے لے رہا ہے یا حرام سے!‘‘ [1] حرام خوری پر وعید: ایسے لوگ ان ڈرانے والی قرآنی آیات اور احادیث نبویہ سے کتنی دور ہیں جو حرام خوری اور اس کے انجام بد پر خبردار کرتی ہیں؟ کیا یہ کوئی نصیحت، عبرت یا ڈانٹ ڈپٹ اور سرزنش قبول نہیں کرتے؟ اﷲ تعالیٰ سود پر خبردار کرتے ہوئے فرماتے ہیں: { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ} [البقرۃ: ۲۷۸] ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اﷲ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۹۵۴)