کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 61
دوسرا خطبہ رزقِ حلال امام و خطیب: فضیلۃ الشیخ محمد بن عبداﷲ السبیل حفظہ اللہ خطبۂ مسنونہ اور حمد و ثنا کے بعد: اے اہلِ اسلام! اﷲ تعالیٰ سے ڈرو جس طرح ڈرنے کا حق ہے، اس کا تقویٰ مومنوں کا شعار اور متقین کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ یہ اﷲ تعالیٰ کی تمام لوگوں کو نصیحت ہے، لہٰذا ہر کام میں جو تم کرتے ہو، اﷲ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ رزقِ حلال قبولیتِ اعمال کی اولین شرط: اﷲ کے بندو! اﷲ تعالیٰ نے مال کی محبت اور اسے حاصل کرنے کی حرص انسانی جبلت میں ودیعت کر دی ہے، کیونکہ لوگوں کی زندگی کا دارومدار، معیشت کا انتظام اور مفادات کی تکمیل اسی پر موقوف ہے۔ شریعت حنیفیہ نے مال حاصل کرنے اور کمانے کی بہت زیادہ ترغیب دلائی ہے، کیونکہ یہ نیک مقاصد اور جائز اغراض تک پہنچنے کا ایک وسیلہ ہے۔ دینِ اسلام نے اس کے ایسے اصول اور ضوابط مقرر کر دیے ہیں جو نہایت واضح ہیں اور ان سے تجاوز کرنا جائز نہیں، تاکہ افراد اور معاشرے کے لیے بہترین مفادات حاصل ہوسکیں۔ شریعت نے ہر مسلمان پر یہ واجب قرار دیا ہے کہ وہ دولت کمانے اور مال حاصل کرنے کے وہ ذرائع اپنائے جو جائز اور حلال ہیں تاکہ آدمی دوسروں سے مانگنے اور مخلوق کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بچ جائے۔ رزق کی طلب نہ صرف مومن کی آبرو اور مسلمان کی عزت ہے بلکہ عزتیں محفوظ کرنے اور شرافت بچانے کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ اس کے ساتھ آدمی بہت سارے نیک اعمال میں مدد حاصل کرتا ہے، بنا بریں اچھا مال نیک آدمی کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ صحابی رسول حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((یا حبذا المال! أصون بہ عرضي وأرضي بہ ربي)) ’’کتنا اچھا ہے وہ مال جس کے ساتھ میں اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہوں اور اپنے رب کو