کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 556
بڑے حظ وافر کے ساتھ طے کرتے ہیں، اپنی تمناؤں کو پاتے اور امیدوں سے ہمکنار ہوتے ہیں اور ٹھوکر لگنے سے محفوظ ہوتے ہیں۔ محاسبۂ نفس کے فوائد: مراجعۂ ذات اور محاسبۂ نفس کے ذریعے آدمی ہمیشہ خوب سے خوب تر اور بہتر سے بہترین کی طرف تغیر و ترقی کر سکتا ہے اور اس تغیر و ترقی کا گہرا رشتہ اس محاسبہ کے ساتھ قائم ہے۔ مراجعہ و محاسبہ بندے کو خرابی و خلل اور نقصان کا پتہ دیتے ہیں، اگر بندے کا عزم صحیح ہو، نیت خالص ہو، راستہ روشن اور طریقہ واضح ہو اور اس سب کچھ کے ساتھ ساتھ ہی عمل اور جد وجہد بھی ہو تو اﷲ کی مدد مل جاتی ہے، حسن انجام حاصل ہو جاتا ہے، حالات بدل جاتے ہیں اور بندہ اپنی لیلائے مراد کو پا لیتا ہے۔ محاسبے کی ضرورت کسے؟ مراجعہ و محاسبہ کے نہج کو اختیار کرنا صرف بعض افراد یا کسی خاص جماعت و گروہ کے لیے ضروری نہیں بلکہ پوری امت کو اس نہج کے اختیار کرنے کی ضرورت ہے، اس کا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ امت ان دنوں ایک سال کو الوداع کرنے والی ہے اور نئے سال کا استقبال کرنے والی ہے۔ البتہ امت کے حق میں یہ مراجعہ و محاسبہ بڑے وسیع انداز میں ہوتا ہے اور اسکا فائدہ بھی اتنا ہی وسیع و عام ہوتا ہے کیونکہ اسے وسیع نظر سے پورے عالم کے حالات کو دیکھنا اور ان عبرتوں و نصیحتوں کا مطالعہ بھی کرنا ہو گا جن سے ہماری تاریخ قدیم و جدید بھری پڑی ہے، اور اس کے بعد بھر پور کوشش کرکے اپنی راہ صحیح کرنا ہو گا تاکہ ہم ایسی زندگی جینے کی راہ اختیار کر سکیں جو کتاب و سنت کی ہدایات کے مطابق اور انھیں کے نور سے منور ہو۔ اﷲ تعالی کا ارشادِ ہے: { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌم بِمَا تَعْمَلُوْنَ وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰھُمْ اَنْفُسَھُمْ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ لاَ یَسْتَوِیٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ