کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 549
{ وَوَھَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ نِعْمَ الْعَبْدُ اِِنَّہٗٓ اَوَّابٌ} [صٓ: ۳۰] ’’اور ہم نے داود کو سلیمان عطا کیا، اچھا بندہ تھا، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔‘‘ وہ عیسیٰ علیہ السلام جنھیں عیسائیوں نے مقام الوہیت پر فائز کردیا، اس کے بارے میں اس کا رب فرماتا ہے: { اِنْ ھُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَیْہِ} [الزخرف: ۵۹] ’’نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا۔‘‘ پھر افضل الرسل، اشرف الانبیاء، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کیا کہنے کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے وصف عبودیت کے اعلیٰ مقام کے ساتھ بیان کرکے شرف بخشا جو تکریم و احترام کا اعلیٰ مقام ہے۔ رات کو اللہ تعالیٰ نے انھیں بیت المقدس کی سیر کروائی، اور پھر انھیں آسمان کا معراج کروایا: { سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ} [الإسراء: ۱] ’’پاک ہے وہ جو رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو حرمت والی مسجد سے بہت دور کی اس مسجد تک لے گیا جس کے ارد گرد کو ہم نے بہت برکت دی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بلاشبہ وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔‘‘ { فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِہٖ مَآ اَوْحٰی } [النجم: ۱۰] ’’پھر اس نے وحی کی اس (اﷲ) کے بندے کی طرف جو وحی کی۔‘‘ لہٰذا تمام انبیائے کرام علیہم السلام مراتب عبودیت میں سب سے بلند ہیں۔ انبیائے کرام کے بعد اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی چوٹی میں صدیقین، شہدا، مجاہدین، علما، اور ایثار و نیکی کرنے والوں کا نام آتا ہے، یہ سارے نیک لوگ اس عبودیت کے درجات میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں جنھیں اللہ کے سوا کوئی احاطۂ شمار میں نہیں لاسکتا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں مخلوق میں سے کامل ترین، افضل، اعلیٰ اور اس کا سب سے زیادہ قرب پانے والا وہ ہے جو ان میں اللہ تعالیٰ کی بندگی میں سب سے زیادہ طاقتور، سب سے زیادہ ہدایت یافتہ اور اسے سب سے زیادہ مکمل کرنے والا ہے۔