کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 547
میں اور ہر اس چیز کے بارے میں جو ہم سے پوشیدہ ہے، جس کی رسولوں نے خبر دی ہے، جو(آسمانی) کتابوں میں نازل ہوا ہے اس کے مطابق صحیح عقیدہ رکھنا۔ عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا اور اس کو اس میں بالکل اکیلا رکھنا، اس کے ساتھ ساتھ جو دل میں مخفی اعتقادات اور اعمال ہیں، جیسے دل میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے میں مکمل یقین ہونا، اسی کی طرف لوٹنا، اس سے ڈرنا، اور اس کی رضا و رحمت کی امید بھی رکھنا، اور صرف اس کے لیے دین کو خالص کرنا۔ اعضائے بدن کے اعمال: پھر اعضاء کے اعمال میں بھی کئی طرح کی عبادتیں شامل ہیں، جیسے نماز پڑھنا، زکاۃ دینا، روزہ رکھنا، حج کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، صلہ رحمی کرنا، امانتیں ادا کرنا، وعدے پورے کرنا۔ پڑوسی، یتیم، مسکین، مسافر اور بنی آدم میں سے ہر ایک محتاج کے ساتھ ہر طرح کی اچھائی کرنا نہ صرف انسان بلکہ حیوانات کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کرنا، کیونکہ حدیث میں ہے: ’’في کل کبد رطبۃ أجر‘‘[1]ہر جاندار کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے میں اجر ہے۔ زبان کے اعمال یہ ہیں: قرآن کریم کی تلاوت کرنا، ذکر کرنا، حق بات کہنا، اچھی بات کرنا، نیکی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا، پڑھنا پڑھانا، ہرظاہری اور باطنی فحش گوئی سے اجتناب کرنا، حرام کاموں سے رکنا اور تکبر، ریاکاری، خود پسندی، حسد، منافقت، غیبت، چغلی اور ہر منع کردہ کام سے اپنی زبان کو محفوظ رکھنا۔ اگر تحقیق کی جائے تو یہی حقیقت سامنے آئے گی کہ بندگی دراصل سارے دین کا نام ہے۔ جب حضرت جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام، ایمان اور احسان کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا: (( ھذا جبرئیل أتاکم یعلمکم دینکم )) [2] ’’یہ جبرئیل تمھیں تمھارا دین سکھانے کے لیے تشریف لائے ہیں۔‘‘ بندگی تمام مقامات میں سے اشرف و اعلیٰ: برادران اسلام! بندگی تمام مقامات میں سے اشرف اور تمام مقاصد میں سے اعلیٰ ہے۔ اللہ کے فرشتے اس بندگی کی وجہ سے معزز اور صاحب شرف ہوئے۔