کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 544
عبودیت۔۔۔ انسان کی اندرونی پکار: بندگی اور عبودیت ایک ایسا لازمی اور حتمی مسئلہ ہے کہ کسی بھی انسان کے لیے کسی بھی حالت میں اس سے کسی طرح کا کوئی بھی چھٹکارہ یا رہائی ممکن نہیں۔ یہ ہر زمانے میں اور ہر جگہ لوگوں کی واقعاتی زندگی میں یقینی طور سے موجود رہتی ہے۔ یہ ایک انتہائی لازمی چیز ہے کیونکہ ہر انسان ضرورت مند، فقیر اور کمزور ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ دو حالتوں کے درمیان رہتا ہے جن کی تیسری کوئی صورت نہیں ہوتی، یا تو وہ اپنی عبادت، عاجزی، اور انکساری کا رخ اللہ واحد و قہار کی طرف موڑ لیتا ہے اور توحید پرست، فرمانبردار، مطمئن اور خوش نصیب ہوجاتا ہے، یا پھر وہ جو بہت سارے جھوٹے معبودوں، بتوں، خواہشات، شہوتوں، مال و دولت، لذتوں، قوانین، اشخاص، رسوم رواج، اور فرقوں کے آگے جھکنے والاان کا اسیر اور ان کے لیے جبین نیاز کو جھکانے والا ہوجاتا ہے، اور جس کو بھی وہ اپنا محبوب، راہبر، یا پیشوا مانتا ہے تو اس کے ساتھ تعلقات میں اعتدال کی حد سے تجاوز کرجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: { ء اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰہُ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ} [یوسف: ۳۹] ’’کیا الگ الگ رب بہتر ہیں یا اﷲ، جو اکیلا ہے، نہایت زبردست ہے؟‘‘ { اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ} [التوبۃ: ۳۱] ’’انھوں نے اپنے عالموں اور اپنے درویشوں کو اﷲ کے سوا رب بنا لیا۔‘‘ { اَفَرَئَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰھَہٗ ھَوَاہُ} [الجاثیۃ: ۲۳] ’’پھر کیا تونے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو بنا لیا؟‘‘ سچی بندگی۔۔۔ سعادت کی راہ: مسلمانو! اللہ مالک کی عبادت ہی وہ لگام ہے جو انسانیت کی سرکشی کو لگام دے کر اسے شہوت رانی میں منہ مارنے سے روک سکتی ہے، یہی وہ راستہ ہے جو امتوں کو اللہ تعالیٰ کی شریعت کے خلاف منہ زوری سے روک لگا سکتا ہے۔ سچی بندگی ہی وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس نفس کے لیے ایک سرگرم محرک ثابت ہوسکتی ہے تاکہ یہ نفس ہر سچ، بھلائی اور سعادت کی راہ اپنا سکے۔ صرف سچی بندگی انسانیت کو مختلف طاقتوں، نظاموں، حالات اور اشخاص کی تذلیل سے نجات دے سکتی ہے۔ اسی طرح یہی حقیقی بندگی وہ