کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 540
ساتھ آہستہ آواز کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو سلام بھیجے، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہاں متعدد اوقات میں درود پڑھے جس طرح عام لوگوں کا خیال ہے، اسی طرح حجرہ نبویہ یا دیگر مقامات پر ہاتھ پھیرنا اوران کو چھونا بھی جائز نہیں جس طرح لوگ کرتے ہیں۔ اللہ انھیں ہدایت دے۔ لہٰذا حاجیوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے تمام افعال میں حبیب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اپنائیں اور شریعت میں حرام کاموں اور بدعات سے مکمل اجتناب کریں۔ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ( من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فھو رد )) [1] ’’جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے امر کے خلاف ہو تو وہ مردود ہے۔‘‘ سنت کو اپنا کر ہی ان کا حج قبول ہوگا اور ان کی کوشش کی قدر افزائی ہوگی، اس طرح ان کے گناہ معاف ہو جائیں گے اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ پورا ہوگا کہ وہ ان کو اس دن کی طرح گناہوں سے پاک کرکے لوٹائے گا کہ جس دن وہ اپنی ماؤں کے پیٹوں سے معصوم پیدا ہوئے تھے۔[2] اور اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں۔ اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ، اللہ تعالیٰ کی مکمل نعمتوں پر اس کا شکریہ بجا لاؤ، اس کی مسلسل نوازشوں پر اس کی تعریف کے گن گاؤ، اور اس کی بڑھائی بیان کرو۔ ’’اللہ أکبر، اللہ أکبر، لا إلہ إلا اللہ، واللہ أکبر، اللہ أکبر، وللہ الحمد۔‘‘ حج کے اثرات سمیٹ کر جاؤ: احباب کرام! پیارے حاجی بھائیو! تم یہاں اس مقدس جگہ اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے، لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے، توحید خالص کا اعلان کرتے ہوئے اور اس شریعت کو مطلقاً قبول کرتے ہوئے تشریف لائے ہو، اور اب تم نے اپنے حج کے بہت سارے مناسک ادا کیے ہیں، لہٰذا جو عبادات باقی ہیں ان کے متعلق ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا، لہٰذا ان کا خاتمہ اچھے انداز میں کرو، کیونکہ اعمال کا دارومدار ان کے خاتمے پر ہوتا ہے۔[3] آئندہ ایام میں بھی اﷲ کا