کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 538
رَّحِیْمٌ ، فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآئَ کُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ ، وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ، اُولٰٓئِکَ لَھُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا کَسَبُوْا وَ اللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ} [البقرۃ: ۱۹۹ تا ۲۰۲] ’’پھر اس جگہ سے واپس آؤ جہاں سے سب لوگ واپس آئیں اور اﷲ سے بخشش مانگو، بے شک اﷲ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔ پھر جب تم اپنے حج کے احکام پورے کر لو تو اﷲ کو یاد کرو، اپنے باپ دادا کو تمھارے یاد کرنے کی طرح، بلکہ اس سے بڑھ کر یاد کرنا، پھر لوگوں میں سے کوئی تو وہ ہے جو کہتا ہے: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دے دے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو کہتا ہے: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے جو انھوں نے کمایا اور اﷲ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘ دھکم پیل اور ایذا رسانی سے گریز: حاجی بھائیو! یہاں ایک اہم صورتحال سے سابقہ پڑتاہے جس کا علاج کرنا نہایت ضروری ہے، وہ صورتحال یہ ہے کہ کئی حاجی منیٰ سے بارہ تاریخ والے دن جلد از جلد نکلنا چاہتے ہیں، لہٰذا وہ زوال کے بعد کنکر مارنے کے وقت کا انتظار کرتے رہتے ہیں، جونہی وقت ہوتا ہے وہ اتنی شدید دھکم پیل کرتے ہیں کہ یہ خدشہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ کہیں ایک دوسرے کو قتل ہی نہ کر دیں۔ یہ غلطی اور نا سمجھی کی علامت ہے۔ کنکر مارنے کا وقت الحمد للہ وسیع ہے، اس لیے اے بندگانِ رحمن! اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ، اور اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالو، حج تو اللہ تعالیٰ کی بندگی کا ایک اہم مظہر، اور بھائی چارے اور آپس میں رحمدلی کی بہت بڑی علامت ہے۔ اس لیے ایسے لوگوں میں ہونے سے بچو جن کے بارے میں شاعر کا کہنا ہے: [1] اس مسئلے میں تفصیل کے لیے دیکھیں: ’’زیارتِ قبر نبوی‘‘ از محدث العصر علامہ محمد بشیر سہسوانی رحمہ اللہ [2] موضوع۔ الفوائد المجموعۃ (ص: ۱۱۸)