کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 534
عظمت رفتہ کی یاد: اس دن ان پہاڑی ٹیلوں اور سنگریزوں پر کھڑے ہو کر حاجی ہماری قابل فخر اسلامی تاریخ کو یاد کرتا ہے۔ آج امت اسلامیہ کو اپنی عظمت رفتہ کا اعادہ کرنے کے لیے اس حج جیسے اہم موقع سے درس عبرت حاصل کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ عزت، نصرت اور غلبہ امت کے مقدر میں ہوجائے۔ اس بابرکت دن میں مسلمان ان ابدی یادوں کی عطر بیزی اور عظیم فتوحات کی خوشبو سے اپنے مشام جان کو معطر کرتا ہے اور ان معطر فضاؤں میں رہ کر وہ اپنی خواہشات اور تمناؤں کو عملی شکل دینے کے لیے کوشش کرتا ہے۔ یوم النحر کے اعمال: رحمن کے مہمانو! تم آج یوم النحر یعنی ذوالحجہ کے دسویں دن میں ہو، اس بابرکت دن میں حاجی جمرہ عقبہ کو مسلسل سات کنکریاں مارنے کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جب حاجی کنکریاں مارنے سے فارغ ہو جائے اور وہ حج تمتع یا قران کر رہا ہو تو وہ قربانی کرتا ہے، اگر قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اس کو دس روزے رکھنے ہوتے ہیں، پھر اس کے بعد حاجی اپنا سر منڈوا لیتا ہے۔ اس طرح یہ کام کرکے وہ پہلے تحلل سے آزاد ہو جاتا ہے، لہٰذا اس کے لیے اپنی بیوی کے پاس آنے کے سوا بقیہ تمام امور جائز ہو جاتے ہیں، پھر اس کے بعد حاجی بیت اللہ کا رخ کرتا ہے تاکہ طواف افاضہ کرلے جو حج کا ایک رکن ہے جس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: { ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَھُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ} [الحج: ۲۹] ’’پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا خوب طواف کریں۔‘‘ طواف کے بعد آدمی صفا مروہ کی سعی کرتا ہے، خواہ وہ حج تمتع کر رہا ہو یا قِران یا اِفراد، اگر اس نے طواف قدوم کے ساتھ سعی نہ کی ہو تو۔ اور دوسرا تحلل(احرام کی پابندیوں سے مکمل آزادی) تین کام کر کے حاصل ہوجاتا ہے اور وہ تین کام یہ ہیں: جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنا، بال کٹوانا یا سر منڈوانا، اور طواف افاضہ کرنا۔ جب حاجی یہ تین کام کر لیتا ہے تو اس کے لیے وہ تمام چیزیں حلال ہو جاتی ہیں جو احرام کی [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۸۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۳۰۶) [2] صحیح البخاري (۱/ ۳۲۹) [3] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۱۴۱) مسند أحمد (۲/ ۲۲۹) [4] سنن البیھقي (۳/ ۶۱۲)