کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 531
بندوں کی بندگی نہیں بلکہ اﷲ تعالی کی عبودیت کریں: حاجی کو چاہیے کہ جب وہ تلبیہ کہے تو اس کے دل میں اس کی آزادی کا شعور موجزن ہو کہ وہ بندوں کی بندگی سے خلاصی پا کر اپنے خالق کی بندگی کے لیے آزاد ہے اور صرف اسی کے حکم کی اتباع کرے اور اسی کی حکومت و سلطنت کے سامنے جھکے۔ کسی مسلمان کے لیے روا نہیں کہ خلیل اﷲ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے اٹھنے والی ندا پر لبیک کہنے کے بعد اب شیطانی صداؤں پر بھی لبیک کہتا پھرے، جو تفرقہ اور امت کے ا فراد کے مابین اختلاف کی دعوت دیتا ہے، اور کسی مسلمان کے لیے یہ بھی ہر گز روا نہیں کہ وہ ایمان کے شعار کے سوا کسی دوسرے نعرے کو اپنا شعار بنائے، وہ شعار ایمان کہ جس کا اس نے رحمت و غفران کی ہر منزل پر اعلان کیا ہے، بیت اﷲ کا حج کرتے اور مناسک حج ادا کرتے وقت اعلان کیا ہے تاکہ حاجی ایسا نہ ہو جائے کہ ایڑیوں کے بل مڑنے والے اور عہد و معاہدہ کرکے اس سے پھرنے والے شخص کی طرح ہو جائے۔ غنیمت کا موقع: اﷲ کے بندو! اﷲ کا تقوی اختیار کرو اور حج بیت اﷲ کی اس زیارت کو غنیمت سمجھو اور قربت و اطاعتِ الٰہی کی شکل میں پائے جانے والے منافع و فوائد کو حاصل کرنے کی کوشش کرو جن کے ذریعے تم اپنے رب کی طر ف بڑھتے ہو یا پھر وہ منافع و فوائد کہ جو ہر راستے میں اس امت کے اتحاد و اتفاق کا باعث ہیں اور جن سے ظلم کی آگ بجھائی جا سکتی ہے، جس کی تپش اکثر مسلمان ملکوں کے لوگ پا رہے ہیں اور جن سے وہ جور و جفا دور ہو کہ جس نے راتوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں اور اپنے آپ کو ان منافع کے سلسلہ میں ہر وہم میں مبتلا شخص سے دور رکھیں۔ ارشاد الٰہی ہے: { اَلْحَجُّ اَشْھُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی وَ اتَّقُوْنِ یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ} [البقرۃ:۹۷] ’’حج کے مہینے مقرر ہیں، اس لیے جو شخص ان میں حج لازم کرے وہ اپنی بیوی سے ملاپ کرنے، گناہ کرنے، لڑائی جھگڑا کرنے سے بچتا رہے، تم جو نیکی کرو گے اﷲ تعالی اس