کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 524
’’بھلائی پر مداومت کرنے والا اپنے آقا کی خدمت پر مامور غلام کی طرح ہے، اور جو ایک مکمل دن دروازے پر کھڑا رہے، پھر کبھی ادھر کا رخ نہ کرے وہ اس کی طرح نہیں ہوسکتا جو ایک خاص وقت تک روزانہ دروازے پر ڈیوٹی دیتا ہے۔‘‘ میانہ روی: مداومت کے ساتھ میانہ روی اور اعتدال برقرار رکھنے کی آرزو، حقوق و فرائض کا خیال اور ذمے داریوں کے درمیان توازن قائم رکھنا بھی گہرا تعلق رکھتا ہے، تجھ پر تیری ذات کا حق، تیری بیوی کا حق اور ملنے والوں کا حق ہے، ہر صاحب حق کو اس کا حق دے، انسان کے لیے یہ بالکل روا نہیں کہ ایک جانب پر بہت زیادہ توجہ دے اور دوسری جانب میں کوتاہی کرے۔ ’’سددوا، قاربوا، وأبشروا، واستعینوا بالغدوۃ والروحۃ، وشيء من الدلجۃ، والقصد القصد تبلغوا۔‘‘[1] ’’سیدھے رکھو، قربت پیدا کرو، خوشخبری دو، صبح کے وقت، شام کے اندھیرے اور رات کے ابتدائی حصے کو کام میں لاؤ، میانہ چال چلو تاکہ منزل مقصود پا سکو۔‘‘ ’’إن اللّٰه لا یمل حتی تملوا، واکلفوا من العمل ما تطیقون۔‘‘[2] ’’اﷲ تعالیٰ نہیں اکتاتے حتی کہ تم اکتا جاؤ، اتنا ہی عمل اپنے ذمے لو جتنی طاقت رکھتے ہو۔‘‘ امید و خوف: احباب کرام! یہ نیک عمل ہے اور یہ اس کے تقاضے۔ اس کے باوجود انسان گناہوں کا پتلا اور کوتاہی کا فرزند ہے۔ ہر ابن آدم خطاکار ہے اور بہترین خطا کار توبہ کرنے والا۔ نیک عمل کا توفیق یافتہ، مخلص دل، توحید خالص، سنجیدہ ہمت کا مالک، شرعی احکامات بجالانے والا، غفلت اور لغزش سے دور، ایثار کی راہ کا مسافر اور اﷲ کی رحمت کی امید رکھنے والا ہے۔ { وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَہٗ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُوْرًا} [الإسراء: ۵۷] [1] مختصر منھاج القاصدین للمقدسي یہ قول امام سلیمان بن طرخان تیمی (حلیۃ الأولیاء: ۳/ ۳۰) سے بھی مروی ہے۔