کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 520
)) إیاکم وشرک السرائر ۔۔۔ یقوم الرجل فیصلي فیزین صلاتہ جاھدا لما یریٰ من نظر الناس إلیہ، فذلک شرک السرائر )) [1] ’’نیتوں کے شرک سے بچو، ایک آدمی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی آدمی اسے نظر اٹھائے دیکھ رہا ہے تو بڑی کوشش کر کے نماز میں خوبصورتی پیدا کرتا ہے، یہ نیتوں کا شرک ہے۔‘‘ ریاکاری کی بدترین صورت: اگر ریاکاری لوگوں کے لیے عمل کرنے کا نام ہے تو اس سے بھی خطرناک ایک قسم موجود ہے کہ آدمی اپنی نفسانی لذتوں کی خاطر عمل کرے نہ کہ اﷲ سبحانہ وتعالیٰ کی خاطر اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے اور اس کی رحمت و جنت پانے کی امید سے۔ یہ عدم توفیق کی صورت ہے کہ آدمی اپنے نفس کو خوش کرنے اور دنیوی مقاصد کے پیش نظر عمل کر لے، محض دنیا اور اس کے اغراض حاصل کرنے کی نیت سے صوم و صلاۃ کی پابندی کرے، صدقہ و خیرات کرے اور زہد و ورع کا لبادہ اوڑھ لے۔ اخلاص اس چیز کا نام ہے کہ آدمی کا ظاہری اور باطنی حال ایک جیسا ہو، اﷲ تعالیٰ کا مخلص بندہ صرف اﷲ تعالیٰ کے لیے عمل کرتا ہے، خواہ کوئی اسے دیکھے یا نہ دیکھے، چاہے اسے کوئی دنیا کی لذت ملے یا نہ ملے، وہ تو صرف اﷲ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ اس کی صرف یہ طمع ہوتی ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی جنت میں چلا جائے، اس کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی رضا پالے، وہ اﷲ تعالیٰ کی ناراضی کے علاوہ اور کسی کام سے نہیں بھاگتا اور اﷲ تعالیٰ کے عذاب کے علاوہ کسی چیز سے نہیں ڈرتا۔ اخلاص کی حقیقت: اخلاص کا بندہ کبھی دنیاوی مقاصد کے لیے اپنے عمل میں اضافہ یا کمی نہیں کرتا، اگر وہ لشکر کے آخر میں ہو تو وہیں رہتا ہے، اگر پہرے داری پر متعین ہو تو وہیں رہتا ہے، جب حاضر ہو تو کسی شمار اور پہچان میں نہیں ہوتا اور جب غائب ہو تب بھی اس کی کمی محسوس نہیں کی جاتی۔ نیتوں کے معاملات: فرزندان اسلام! نیتیں اور ان کے معاملات نپٹانا ایک اہم اور دقیق موضوع ہے، حقیقت [1] جامع العلوم والحکم (۱/ ۱۳) [2] جامع العلوم والحکم (۱/ ۱۳)