کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 518
حقیقت سمجھتا ہے، اپنی نیکیاں انتہائی قلیل سمجھتا ہے، اﷲ تعالیٰ کے جلال و عظمت اور علم و وسعت کا بخوبی ادراک رکھتا ہے اور اپنے داخلی احساسات اور ظاہری اعمال میں اس کو نگران سمجھتا ہے۔ عمل صالح کی پہلی شرط: اہل اسلام! عمل صالح کی یہ بنیادی شرط ہے کہ وہ صغیرہ و کبیرہ، دقیق و جلیل اور ظاہری اور باطنی ہر طرح کے شرک سے مبرّا ہو: { فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَآئَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا} [الکھف: ۱۱۰] ’’ پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو لازم ہے کہ وہ عمل کرے نیک عمل اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔‘‘ صحیح حدیث میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: ( أنا أغنی الشرکاء عن الشرک، من عمل عملاً أشرک فیہ معي غیري ترکتہ وشرکہ )) [1] ’’میں سب شریکوں سے زیادہ شرک سے بے پرواہ ہوں، جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کیا تو میں اس کو اس کے شرک سمیت چھوڑ دیتا ہوں۔‘‘ دوسری شرط: عمل صالح کی دوسری شرط یہ ہے کہ وہ بدعات اور دین میں نو ایجاد یافتہ امور سے پاک ہو۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ( من عمل عملاً لیس علیہ أمرنا فھو رد )) [2] ’’جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے دین پر نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘ ( من أحدث في أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد )) [3] [1] صحیح۔ سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۶۰۷) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۶۷۶)