کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 517
کے باغ مہمانی ہوں گے۔‘‘ پھر فرمایا: { مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً وَ لَنَجْزِیَنَّھُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ} [النحل: ۹۷] ’’جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ قرآن عزیز اور سنت مطہرہ کا ایک بحر زخار ہے جو اس کی حقیقت، تقاضوں، اثرات و نتائج، دائرۂ کار اور قبولیت کے اسباب کے بیان میں لبا لب بھرا ہوا ہے۔ عمل صالح کی حقیقت: برادران ایمان! اﷲ تعالیٰ پر ایمان، اس کی پہچان، توحید خالص، معرفت حق، عمل میں اخلاص، لزومِ سنت، حلال روزی، ہمیشگی، اعتدال اور میانہ روی، برائی کے بعد اچھائی، توبہ و استغفار، غلطی پر رونا یہ تمام چیزیں نیک عمل یقینی بنانے کے قواعد و ضوابط، علامات اور اس کی نشانیاں ہیں۔ جس نے اﷲ تعالیٰ کو پہچان لیا لیکن حق کی پہچان نہ کر سکا، اس نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، جس نے حق کی معرفت حاصل کر لی لیکن اﷲ تعالیٰ کی پہچان حاصل نہ کر سکا اسے بھی کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا، جس نے اﷲ تعالیٰ کو پہچان لیا، حق بھی پہچان لیا، لیکن عمل میں اخلاص نہیں اپنا سکا وہ بھی فائدے سے محروم رہا، جس نے اﷲ تعالیٰ کو پہچان لیا، حق کی معرفت حاصل کر لی، خلوص نیت سے عمل کیا لیکن سنت کے مطابق اسے ادا نہیں کیا اس کی محنت بھی رائیگاں گئی، اور اگر ان تمام کے ہوتے ہوئے بھی کوئی شخص حلال نہیں کھا سکا، حرام سے نہ بچ سکا، گناہوں کا دلدادہ رہا تب بھی اس کی ساری تگ و دو اکارت گئی۔ قبولیتِ عمل کا امیدوار: اﷲ کے بندو! عمل کی قبولیت کی امید صرف وہ شخص رکھتا ہے جو اپنے رب اور اس کی آیات پر ایمان رکھتا ہے، مخلصانہ عبادت کرتا ہے، اﷲ کے خوف سے ہمیشہ لرزاں رہتا ہے، اپنی عبادات کی [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۹۸۵) [2] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۷۱۸) [3] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲۵۵۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۷۱۸)