کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 512
جنگ کے نام پر شروع کی جانے والی دہشت گردی کی فضا میں محض جذبات انگیخت کرنے اور دینی ثابت شدہ حقائق کا تقدس پامال کرنے کی طرف مائل نہ ہوں۔ دہشت گردی اور حریت کے درمیان فرق کیا جائے: یہاں اس بات کی بھی اہم ضرورت ہے کہ اصطلاحات کا مفہوم بالکل واضح کیا جائے اور قابل مذمت دہشت گردی اور آزادی کی جائز جدوجہد کے درمیان فرق رکھا جائے تاکہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر امت کے بے گناہ اصحاب علم، داعیان اصلاح و احتساب، علمی، دعوتی اداروں اور ریلیف دینے والی ویلفیئر تنظیموں کو الزام نہ دیا جائے، حالانکہ دہشت گردی تو خود الزام دینے والوں کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی ہے! عالمی رائے عامہ سے سوال: یہاں عالمی رائے عامہ اور مغربی میڈیا کے سامنے یہ سوال پیش کیا جاتا ہے کہ آج جو فلسطین کی سرزمین پر ہو رہا ہے اور جو یہ کینہ ور اسرائیل کر رہا ہے، کیا اس کا حق، انصاف اور انسانیت کے ساتھ کوئی تعلق ہے؟ اگر فلسطین میں صیہونی کار روائیاں دہشت گردی نہیں تو پھر دہشت گردی کس چیز کا نام ہے؟ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ مسلمان اٹھ کھڑے ہوں اور دنیا کے چیلنجوں کا سامنا کرنے والے سفینے کو امن اور نجات کے ساحل پر لگانے کے لیے عالمی تہذیبی پروگرام پیش کریں۔ یہ ایک ایسی دنیا ہے جس میں کمزوروں کے لیے کوئی جگہ نہیں، اور اس میں کمزور صرف مسلمان ہیں، مسلمان ہی قربانی کے بکرے اور مختلف الزامات کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، جبکہ اغیار مد مقابل اور رقیب بن کر فیصلے کی کرسی پر بر اجماں ہیں! اس لیے اﷲ کے بندو! اٹھ کھڑے ہوجاؤ، جلدی کرو۔ اور اے امت اسلام! خبردار ہوجاؤ: { وَ اللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰٓی اَمْرِہٖ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ} [یوسف: ۲۱] ’’اور اﷲ اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اسلامی تہذیبی منصوبے کے بنیادی اقدامات: اے برادران اسلام! اسلامی تہذیبی منصوبے کو پیش کرنے کے ضمن میں ضروری ہے کہ