کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 508
اخلاقیات‘‘ کا پہلو ہے۔ جب ہماری تہذیب کا آفتاب طلوع ہوا، تب پوری دنیا پر جنگل کے قانون کی حکمرانی تھی، حتی کہ یہ ساری دنیا وحشی درندوں کی دنیا بن چکی تھی، ان حالات میں ہماری تہذیب نے ایسے جنگی قواعد وضع کیے جن کے مطابق جنگ میں لوٹ مار، قوموں کی تذلیل اور معاشروں کو تباہ کرنا حرام قرار دے دیا گیا۔ ان قوانین نے جنگ کے اعلیٰ مقاصد مقرر کیے، جن میں امت کے عقیدے کا دفاع کرنا، معاشرتی امن برقرار رکھنا اور ظالموں کے ظلم کو روکنا شامل ہے۔ { وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ} [البقرۃ: ۱۹۰] ’’اور اﷲ کے راستے میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی مت کرو، بے شک اﷲ زیادتی کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔‘‘ جنگ ہمیں ہمارے قواعد نہیں بھلاتی، اس لیے لڑائی جب جوبن پر ہو تو مجاہدین کو نہایت کریمانہ نصیحتیں کی جاتی ہیں کہ ’’مثلہ نہ کرو، غدر نہ کرو، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، کسی بوڑھے، بچے یا عورت کو قتل نہ کرو، کسی کھجور کو کاٹو اور نہ اسے آگ لگاؤ، کوئی پھلدار درخت نہ کاٹو، صرف کھانے کے لیے بکری، گائے یا اونٹ کو ذبح کرو۔ تمھارا گزر ایسے لوگوں سے ہوگا جنھوں نے اپنی زندگی گرجا گھروں میں عبادت کے لیے وقف کی ہوگی، لہٰذا انھیں اور جس کام کے لیے انھوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے، اس کو چھوڑ دینا اور ان کے ساتھ تعرض نہیں کرنا۔‘‘[1] حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب لشکر اسامہ روانہ کیا تب اس کو ان الفاظ میں نصیحت کی۔ اور اس سے بھی بلیغ وہ الفاظ ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمائے جب معرکہ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوگئے، آپ کے دندان مبارک شہید ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور زخموں سے چور ہوگیا تو کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان کے خلاف بد دعا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: (( إني لم أبعث لعانا، ولکن بعثت رحمۃ، اللھم اھد قومي فإنھم لا یعلمون )) [2] [1] ضعیف۔ سیرۃ ابن إسحاق (۴/ ۳۱) اس کی سند میں انقطاع اور ارسال ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں: السلسلۃ الضعیفۃ، رقم الحدیث (۱۱۶۳) [2] صحیح۔ سنن أبي داود، رقم الحدیث (۲۶۶۹)