کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 503
اے امت مسلمہ! مغربی تہذیب کے حقائق کا دامن چاک ہوچکا ہے اور اس کی ان ذمے داریوں کے بوجھ اٹھانے کی حقیقت پسندی ریزہ ریزہ ہوچکی ہے جو دنیا میں انسان کے لیے قیام امن، حقوق انسانی کی حفاظت اور اعلیٰ انسانی اور اخلاقی اقدار کی نگہبانی کے لیے اس کو قائدانہ کردار ادا کرنے کے اہل بنا سکتی ہیں۔ دنیا میں ایک امت کے سوا کوئی ایسی امت نہیں جو عالمگیر تہذیبی منصوبے کو پیش کرنے کی اہلیت رکھتی ہو یہ وہ امت ہے جو لوگوں پر گواہ ہوگی جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: { وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا} [البقرۃ: ۱۴۳] ’’اور اسی طرح ہم نے تمھیں سب سے بہتر امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو اور رسول تم پر شہادت دینے والا بنے۔‘‘ یہ وہ امت ہے جو تمام جہانوں کے لیے سراسر رحمت ہے: { وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ} [الأنبیاء: ۱۰۷] ’’اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر جہانوں پر رحم کرتے ہوئے۔‘‘ یہ وہ امت ہے جو تمام عالم میں بہترین امت ہے: { کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ} [آل عمران: ۱۱۰] ’’تم سب سے بہتر امت چلے آئے ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو۔‘‘ یہ وہ امت ہے جسے زمین پر غلبہ اور سطوت حاصل ہوگی: { اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ} [الحج: ۴۱] ’’وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے۔‘‘