کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 498
کاموں کی طرف راہنمائی کریں جس سے وہ اپنے دین کو بچا سکیں، اپنے وجود کی حفاظت کرسکیں، اپنے مبادیات اور تعلیمی نصاب کے متعلق اعتماد پیدا کرسکیں، انھیں حسد رکھنے والوں کے حسد اور بغض رکھنے والوں کے شر سے بچا سکیں، قول اور عمل میں میزانِ عدل قائم کر سکیں اور وہ ایسے ممتاز عقلمند ہوکر سامنے آئیں جن کو علم ہو کہ کس چیز کو لینا ہے اور کس کو ترک کرنا ہے؟! اسلامی ممالک نشانہ اور ہدف بنے ہوئے ہیں اور شریعت مطہرہ کے عقائد اندرونی اور بیرونی تشکیکی سرگرمیوں اور گمراہ کرنے والی مہموں کا شکار بنے ہوئے ہیں بلکہ ایسے لوگ اس کام میں شریک ہیں جو مسلمانوں کی زمینوں پر بستے ہیں اور ان کی زبان بولتے ہیں۔ بلادِ حرمین ان ہتھکنڈوں سے متاثر ہونے والے نہیں: بلاد حرمین شریفین جو وحی اترنے کے گھر اور اسلام کے قلعے ہیں، کبھی اپنے آپ کو ان کانٹوں کے سپرد نہیں کریں گے، چاہے الزامات اور تہمت بازی کے حملے کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں؟ اللہ کے فضل سے کوئی ایسا شخص جو دینی عقائد، دینی بیداری اور شرعی طور اطوار میں شک کرنے والا ہو یہ بلاد حرمین کبھی اس کے منہ کی چیوگم نہیں بن سکتے کہ وہ جیسے چاہے انھیں چباتا پھرے۔ یہاں کے پیر و جواں اس بیداری سے متاثر ہیں جس کی بنیاد صحیح اسلامی تربیت پر ہے۔ ان کے افکار اور خیالات صحیح عقیدے کے ستونوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے دوستی اور دشمنی کی بنیادوں پر قائم ہیں۔ ہمارے یہ نوجوان ہمارے علما کی محنتوں کا پھل اور اپنے حکام کی طاقت ہیں۔ یہاں کے رہنے والے اللہ کے فضل سے کبھی ایسے باجے نہیں بنیں گے جن کو دشمن اپنے افکار پھیلانے کے لیے آلہ کار بنا سکیں، اور نہ ایسی سواریاں ہی بنیں گے جن پر اس ملک سے حسد رکھنے والے اور اس کے مضبوط عقیدے اور شرعی طور اطوار سے نفرت کرنے والے سواری کر سکیں۔ ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ نہیں چاہتے وہ کبھی نہیں ہوسکتا۔ پہلے اور بعد میں بھی حکم اسی کا ہے۔ { وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنقَلَبٍ یَّنقَلِبُوْنَ} [الشعراء: ۲۲۷] ’’اور عنقریب وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، جان لیں گے کہ وہ لوٹنے کی کون سی جگہ لوٹ کر جائیں گے؟‘‘