کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 497
شخص نے نہ اللہ کے حق کا کچھ خیال کیا نہ اس کے رسول کے حق کا کچھ لحاظ رکھا اور نہ اپنے دین اور اپنی امت کی لاج ہی کا کچھ پاس کیا۔ اس لیے یہ ایک منطقی بات ہے کہ اس چیز کا تصور کرنا بھی محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ترک تعلقات کر کے اور اس کی شریعت کے خلاف اپنے دل میں نفرت رکھ کر انسان انسانی پختگی اور ترقی کو پہنچ جائے۔ دین سے نام کا تعلق رکھنے کی سوچ: وقتاً فوقتاً لوگوں میں کچھ ایسے نئے نئے خیالات جنم لیتے رہتے ہیں کہ ایک مسلمان آدمی اپنے دین کے ساتھ اپنا تعلق توڑنے کا امکان رکھتا ہے یا محض وہ پھیکے کلمات استعمال کر کے یا پھر اللہ کے دین کی کسی ایک فرع ہی کو تھام کر چاپلوسی کے انداز میں وہ اپنے دین کے ساتھ تعلق قائم رکھ سکتا ہے۔ پھر اس کے بعد وہ اپنے لیے اپنا راستہ خود منتخب کر سکتا ہے جس میں مسجد یا اللہ تعالیٰ کی حدود کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ یہ ایک انتہائی خطرناک سوچ ہے اور یہ انداز فکر وسیع پیمانے پر متلاشیان حق کے سامنے بہت سارے سوالات جنم دیتا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے کا مسئلہ اس قدر آسان ہے کہ اس میں نفی اور اثبات برابر ہیں؟ لینا اور ترک کرنا ایک جیسا ہے؟ شرک اور توحید ایک ہی چیز ہیں؟ کیا یہ مسئلہ اس قدر ہلکا اور بے وزن ہے کہ اس میں ثابت اور متغیر، عدل اور ظلم اور شک اور سچ کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں؟! اگر ہم کسی کو یہ کہتا ہوا سنیں کہ زمین چوکور ہے، یا وہ کہتا ہو کہ سمندروں اور دریاؤں کا پانی انتہائی میٹھا ہوتا ہے تو بلاشبہ ہم اس کی عقل میں خلل سمجھیں گے اور اس کو بیوقوف اور پاگل قرار دیں گے۔ اگر دنیا کے بعض حقائق کو سمجھنے میں غلطی کرنے والے کا انکار اس وزن اور شدت کے ساتھ ہوتا ہے تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھنے والے بلند حقائق میں بڑی بڑی غلطیاں کرنے والوں کے بارے میں پھر کیا خیال ہوگا؟ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: { اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا لاَ یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا} [فصلت: ۴۰] ’’بے شک وہ لوگ جو ہماری آیات کے بارے میں ٹیڑھے چلتے ہیں، وہ ہم پر مخفی نہیں رہتے۔‘‘ دیندار اصحاب قلم کی ضرورت: کاش! مجھے معلوم ہوتا وہ روشن قلمیں اور درست عقلیں کہاں رہتی ہیں جو لوگوں کی ایسے