کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 496
کو خوب موٹا بنا کر پیش کرتے ہیں لیکن نہ ان کو اس بات کی حقیقت کا علم ہوتا ہے نہ اُس بات کی اصل کا۔ اگر کوئی انسان مسجد میں چوری کرے تو یہ مسجدیں بند یا منہدم کرنے کی آوازیں لگانا شروع کردیتے ہیں تاکہ چوری ہی نہ ہوسکے ۔ اگر کوئی باپردہ خاتون دھوکا دہی یا فراڈ کی مرتکب ہو تو یہ لوگ پردہ اتار دینے کی صدائیں بلند کرنا شروع کردیتے ہیں، اس کے نقصانات گنوانا شروع کردیتے ہیں اور یہ بات باور کروانا چاہتے ہیں کہ پردہ دھوکا دہی اور فراڈ کے لیے بہت بڑی آڑ ہے۔ لیکن حقیقت میں ان لوگوں نے چور کا ہاتھ کاٹا نہ اس دھوکا دینے والی پر تعزیر لگائی بلکہ انھوں نے مساجد منہدم کرنے اور حجاب اتار دینے کے لیے پروپیگنڈا کرنا شروع کر دیا۔ یہ ہے اس حیرانی کا راز۔ جب اس طرح کا الٹا انداز فکر دیکھتے ہیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اسلامی غیرت: ابو سفیان اسلام قبول کرنے سے پہلے ایک مرتبہ مدینہ آیا اور اپنی بیٹی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے گھر داخل ہوا، جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ تھی۔ جب ابو سفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر بیٹھنے کے لیے آگے بڑھا تو اس کی بیٹی نے بستر اٹھالیا۔ وہ کہنے لگا: ’’پیاری بیٹی! کیا یہ بستر میرے لائق نہیں یا میں اس بستر کے لائق نہیں؟!‘‘ انھوں نے جواب دیا: ’’بلکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ہے اور تم ایک مشرک اور پلید آدمی ہو۔‘‘[1] اس طرح اس کلمہ حق کے ساتھ ام المومنین نے اپنے باپ کو جواب دیا اور اس مشہور عربی مثال کے بخیے ادھیڑ دیے کہ (( کل فتاۃ معجبۃ بأبیھا )) ’’ہر دوشیزہ اپنے باپ کو پسند کرتی ہے۔‘‘ اللہ کے بندو! انھوں نے ایسا صرف اس لیے کیا تھا کہ ابھی تک ان کے باپ کے دل میں ایمان جاگزیں ہوا تھا نہ انھوں نے کلمہ توحید ہی زبان سے پڑھا تھا، اور ان کے ہاں باپ کے رشتے کا یہ اتنا بھی حق نہیں بنتا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر ہی کو چھو لے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آپ کے بستر کے مانند: لوگو! یاد رکھو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آپ کے بستر کے مانند ہے جس نے اس پر ایسے شخص کو بٹھایا جو اس سے نہیں یا اسے عار محسوس کرتے ہوئے یا کسی فائدے کی خاطر اس کو لپیٹ دیا تو ایسے