کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 492
کریم حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق فرماتے ہیں: { ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ لِیَبْلُوَنِیْٓ ئَ اَشْکُرُ اَمْ اَکْفُرُ وَمَنْ شَکَرَ فَاِِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ کَرِیْمٌ} [النمل: ۴۰] ’’یہ میرے رب کے فضل سے ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں، یا ناشکری کرتا ہوں اور جس نے شکر کیا تو وہ اپنے ہی لیے شکر کرتا ہے اور جس نے ناشکری کی تو یقینا میرا رب بہت بے پروا، بہت کرم والا ہے۔‘‘ اسی طرح تکلیف میں ہمارا موقف اس حال کے برعکس ہونا چاہیے جس کی مذمت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: { وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ} [الحج: ۱۱] ’’اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اﷲ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے۔‘‘ دوسری جگہ فرمان ہے: { وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ فَاِذَآ اُوْذِیَ فِی اللّٰہِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللّٰہِ} [العنکبوت: ۱۰] ’’اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو کہتا ہے، ہم اﷲ پر ایمان لائے، پھر جب اسے اﷲ (کے معاملہ) میں تکلیف دی جائے تو لوگوں کے ستانے کو اﷲ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتا ہے۔‘‘ کافر مسلمان سے خوش نہیں ہوسکتا: اللہ کے بندو! غیر مسلم امت مسلمہ سے اس وقت تک خوش نہیں ہو سکتے جب تک وہ اپنے دین اور شریعت کو چھوڑ کر ان سے علیحدہ نہ ہو جائے یا کم از کم اس سے پیچھے ہٹ جائے یا اتنی پسپائی اختیار کرلے کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں دو آدمیوں کا اختلاف بھی نہیںہونا چاہیے اور نہ دو منہ پھٹ افراد کو اس میں جھگڑا ہی کرنا چاہیے۔ مسند احمد اور ابن ابی شیبہ میں حضرت جابر کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک کتاب لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جو انھیں کسی اہل کتاب سے ملی تھی۔ حضرت [1] مسند أحمد (۳/ ۳۸۷) اس حدیث کی سند میں مجالد بن سعید ضعیف ہے لیکن علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے دیگر شواہد کی بنا پر اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ دیکھیں: (إرواء الغلیل: ۸/ ۳۵)