کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 483
ایک سمجھدار مسلمان کی عقل اور ایمان اسے حسن کلام اور خوبصورت گفتگو کرنے پر اکساتے ہیں۔ اگر بات کرنے کا موقع محل ہو تو وہ بات کرتا ہے وگرنہ گناہ سے بچنے کی خاطر اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے خاموشی ہی میں عافیت سمجھتا ہے۔ فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( من کان یؤمن باللّٰه والیوم الآخر فلیقل خیرا، أو لیصمت )) [1] ’’جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ یا اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔‘‘ دل کی باتوں کو عمدہ سلیقے سے کہنا بلند ترین اور شریفانہ خوبی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گذشتہ ادیان کے ماننے والوں کی توجہ اس طرف مبذول کروائی اور ان سے پختہ وعدہ لیا ہے۔ فرمایا: { وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہَ} [البقرۃ: ۸۳] ’’اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے۔‘‘ حسنِ کلام کے فوائد: اچھی بات دوست اور دشمن ہر ایک کے ساتھ عمدگی کے ساتھ پیش آنا سکھاتی ہے، دوستوں کے ساتھ یہ الفت و محبت میں ہمیشگی کا سبب بنتی ہے جبکہ دشمنوں کے ساتھ حسن کلام کے ساتھ پیش آنا دلوں میں موجود نفرتوں اور کدورتوں کو دور کر دیتا ہے، اور جھگڑوں کی آگ بجھا دیتا ہے، جس طرح ارشاد ربانی ہے: {ادْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ ، وَمَا یُلَقّٰھَآ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَمَا یُلَقّٰھَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ} [فصلت: ۳۴، ۳۵] ’’تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کریں اور یہ نہیں دی جاتی مگر اسی کو جو بہت بڑے نصیب والا ہے۔‘‘ زبان کی آفتیں: اے مسلمانو! زبان کی بہت زیادہ آفتیں اور بیہودہ گوئی کی بہت زیادہ برائیاں ہیں۔ امیر [1] المعجم الأوسط (۲/ ۳۷۰) یہ روایت مرفوعاً بھی مروی ہے لیکن اس کی سند صعیف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں: السلسلۃ الضعیفۃ، رقم الحدیث (۴۶۴۳) [2] صحیح۔ سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۶۱۶)