کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 474
’’سو تم اﷲ کے ہاں ہی رزق تلاش کرو اور اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر کرو، اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس مشہور نصیحت میں، جو آپ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما کو فرمائی تھی، بیان کیا ہے کہ نفع اور نقصان کے تمام امور کی چابیاں صرف اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ فرمایا: (( واعلم: أن الأمۃ لواجتمعت علی أن ینفعوک بشيء لم ینفعوک إلا بشيء قد کتبہ اللّٰه لک، ولو اجتمعوا علی أن یضروک بشيء لم یضروک إلا بما کتب اللّٰه علیک، رفعت الأقلام وجفت الصحف )) [1] ’’جان لو! اگر ساری امت بھی تجھے کوئی فائدہ پہنچانے کے لیے اکٹھی ہوجائے تو تجھے اس فائدے کے سوا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی جو اﷲ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے، اور اگر تجھے کوئی نقصان پہنچانے کے لیے سارے اکٹھے ہوجائیں تب بھی تجھے اس نقصان کے سوا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے جو اﷲ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے، قلمیں اٹھا لی گئی ہیں اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔‘‘ زندگی مقرر ہے: اور عمر کے متعلق اﷲ جل شانہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ اس کے ہاں کتاب میں مقرر اور لکھی ہوئی ہے، جسے درازیٔ صحت، پرتعیش زندگی، ناز و نعم میں پلنا اور ہر اس کام سے بچنا جو باعث خطرہ ہوسکتا ہو، بڑھا نہیں سکتا، نہ عزت و شرف اور جہاد کے میدان میں کود پڑھنا، جہاں بے خوف و خطر کود پڑنا ضروری ہوجاتا ہے، عمر میں کچھ کمی ہی کر سکتا ہے۔ فرمایا: { وَ مَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ} [آل عمران: ۱۴۵] ’’اور کسی جان کے لیے کبھی ممکن نہیں کہ اﷲ کے حکم کے بغیر مر جائے۔‘‘ مگر لوگ غافل ہیں: اس حقیقت کے بالکل عیاں ہونے اور اس وعدے کے قطعاً سچا ہونے کے باوجود بے یقینی کی کیفیت جو اکثر لوگوں پر طاری رہتی ہے ان کو اس پورہ ہونے والے وعدے سے دور رکھتی ہے اور ان [1] صحیح ابن حبان (۱/ ۵۱۰) نیز دیکھیں: سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۴۱۴)