کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 469
رِضْوَانَ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ ، اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآئَہٗ فَلَا تَخَافُوْھُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ } [آل عمران: ۱۷۲ تا ۱۷۵] ’’وہ جنھوں نے اﷲ اور رسول کا حکم مانا، اس کے بعد کہ انھیں زخم پہنچا، ان میں ان لوگوں کے لیے جنھوں نے نیکی کی اور متقی بنے بہت بڑا اجر ہے۔ وہ لوگ کہ لوگوں نے ان سے کہا کہ بے شک لوگوں نے تمھارے لیے (فوج) جمع کر لی ہے، سو ان سے ڈرو، تو اس (بات) نے انھیں ایمان میں زیادہ کر دیا اور انھوں نے کہا، ہمیں اﷲ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے۔ تو وہ اﷲ کی طرف سے عظیم نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے انھیں کوئی برائی نہیں پہنچی اور انھوں نے اﷲ کی رضا کی پیروی کی اور اﷲ بہت بڑے فضل والا ہے۔ یہ توشیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، تو تم ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔‘‘ شریعت کے عقائد و اقدار امید کی کرن: ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ امت آج جن مصیبتوں کا شکار ہے ان کا سبب یہ خود اور اس کے اپنے اعمال ہیں، لیکن ہمیں اس بات کا بھی کامل یقین ہے کہ یہ امت بفضلہ تعالیٰ ان اقدار کی مالک ہے جن کا منبع وحی الٰہی ہے، جو قرآن اور سنت کی شکل میں ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ یہ امت اس پر ایمان رکھتی ہے اور اسی کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہی وہ پیمانہ اور روشن چراغ ہے جو خلل اور خرابی کی نشاندہی کر کے انحراف کے کونے کی تحدید کرنے پر قادر ہے، اور یہی وہ چیز ہے جس کے ساتھ امت باذن الٰہی درستی، ہوشمندی، بیداری اور تجدید پر قادر ہوسکتی ہے۔ شریعت کے عقائد اور اصول حقیقت میں وہ دفاعی نظام ہیں جو فکری بحرانوں، عقلی بیماریوں اور مادی انحرافات کے سامنے بند باندھنے پر قادر ہیں۔ یہ تو ایک پہلو تھا، ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس حقیقت سے انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسا کبوتر کا بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لینا کہ معاصر نووارد فکری لہروں نے دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر جنگ کے میدان میں کافی کامیابیاں سمیٹی ہیں اور ہر چیز کو نادیدے پن کے ساتھ لپیٹ لینے کی کئی کاوشیں کی ہیں، لیکن ان تمام مشکلات اور بحرانی کیفیات کے باوجود اسلام اور اسلامی معاشرہ ان تبدیلی کی ہواؤں کا مقابلہ ڈٹ کر کرتا رہا ہے اور ان شاء اﷲ کرتا رہے گا۔