کتاب: خطبات حرمین جلد اول - صفحہ 461
تیسرا خطبہ عصرِ حاضر کے اصول و مبادیات اور ان کے اثرات کا جائزہ امام و خطیب: فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن حمید حفظہ اللہ خطبۂ مسنونہ اور حمد و ثنا کے بعد: اے لوگو! میں تمھیں اور اپنی ذات کو اﷲ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں، لہٰذا اس کا تقویٰ اختیار کرو، جو اس سے ڈر جاتا ہے وہ اس کو بچا لیتا ہے، جو اس کی طرف لوٹتا ہے وہ اس پر اپنی مہربانی فرماتا ہے، جو اس سے راضی ہوجاتا ہے وہ اس سے راضی ہو کر اس کو خوش کر دیتا ہے، جو اﷲ رب العزت کی اطاعت کی خاطر اپنے نفس کو ذلیل اور مطیع کرتا ہے وہ اسے عزت کی بلندیوں پر بٹھاتا ہے۔ جو اﷲ بزرگ و برتر کے ساتھ تجارت کرتا ہے اس کی تجارت نفع بخش ثابت ہوتی ہے اور جو اس کی طرف ہجرت کرتا ہے اس کی ہجرت صحیح ہوتی ہے۔ حادثاتِ زمانہ اور عبرت خیز واقعات میں غور و فکر کیا کرو، کیونکہ یہ سچی خبریں ہوتی ہیں، یہ نصیحت آموز حادثات اور عبرت ناک متغیرات ہوتے ہیں جو ایک مرتبہ دیتے اور دوسری مرتبہ چھین لیتے ہیں، کسی آباد کو برباد کر دیتے ہیں اور کسی محل کو تعمیر کردیتے ہیں۔ فتنوں سے عبرت حاصل کریں: اے مسلمانو! فتنے اور آزمائشیں خبردار کرنے والی اور خواب غفلت سے بیدار کرنے والی چیزیں ہیں جو زندہ قوموں کو اپنی طرف لوٹ کر آنے، اور علمی ورثے، عملی نظریات اور تہذیبی کاروانِ حیات کا حقیقت پسندی، سنجیدگی، صراحت اور شفافیت کے ساتھ ایسا جائزہ لینے کی ذمے داری اٹھانے پر اکساتی ہیں جو ان کی وراثت پر نظر ثانی کرنے، ان کے عمل کو درست کرنے اور ان کی ثقافت کی چھان پھٹک کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہو۔ یہ ثقافتی ورثے ایسی چیزیں ہیں جو لوگوں کی زندگی پر اثر انداز ہو کر ان کے کردار کو ایک جہت عطا کرتی ہیں، اور کمی و کوتاہی کے اسباب اور مقامات کی تحدید کے سلسلے میں سنجیدہ اور مخلصانہ کوششوں کے لیے ان کے اہتمامات اور ترجیحات کو متعین کرتی ہیں۔ بڑے بڑے چیلنجز اور خطرناک بحرانات قوموں کو بیدار کر دیتے ہیں، ملکوں کو خبردار کر دیتے ہیں، کاروان حیات میں بہت بڑی تبدیلیوں کو